hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4376

.

الطحاوي

4376
Al Tahawi
۴۳۷۶: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مُغِیْرَۃُ بْنُ یُوْنُسَ ، ہُوَ ابْنُ جُبَیْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ، قُلْتُ :رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ وَہِیَ حَائِضٌ ؟ قَالَ : أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ؟ فَقُلْتُ :نَعَمْ ، قَالَ : فَاِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ وَہِیَ حَائِضٌ ، فَأَتٰی عُمَرُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہٗ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُرَاجِعَہَا ، ثُمَّ یُطَلِّقَہَا فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہَا .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذِہِ الْآثَارِ ، فَقَالُوْا : مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ وَہِیَ حَائِضٌ ، فَقَدْ أَثِمَ ، وَیَنْبَغِی لَہٗ أَنْ یُرَاجِعَہَا ، فَاِنَّ طَلَاقَہُ ذٰلِکَ ، طَلَاقٌ خَطَأٌ ، فَاِنْ تَرَکَہَا تَمْضِی فِی الْعِدَّۃِ ، بَانَتْ مِنْہُ بِطَلَاقٍ خَطَأٍ ، وَلٰـکِنَّہٗ یُؤْمَرُ أَنْ یُرَاجِعَہَا ، لِیُخْرِجَہَا بِذٰلِکَ مِنْ أَسْبَابِ الطَّلَاقِ الْخَطَأِ ، ثُمَّ یَتْرُکَہَا حَتّٰی تَطْہُرَ مِنْ ہٰذِہِ الْحَیْضَۃِ ، ثُمَّ یُطَلِّقَہَا طَلَاقًا صَوَابًا ، فَتَمْضِی فِیْ عِدَّۃٍ مِنْ طَلَاقٍ صَوَابٍ ، فَاِنْ شَائَ رَاجَعَہَا ، فَکَانَتِ امْرَأَتُہُ وَبَطَلَتِ الْعِدَّۃُ ، وَاِنْ شَائَ تَرَکَہَا حَتّٰی تَبِیْنَ مِنْہُ بِطَلَاقٍ صَوَابٍ .فَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، مِنْہُمْ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، فَزَعَمُوْا أَنَّہٗ اِذَا طَلَّقَہَا حَائِضًا ، لَمْ یَکُنْ لَہُ بَعْدَ ذٰلِکَ أَنْ یُطَلِّقَہَا حَتّٰی تَطْہُرَ مِنْ ہٰذِہِ الْحَیْضَۃِ ، ثُمَّ تَحِیْضَ حَیْضَۃً أُخْرَی، ثُمَّ تَطْہُرَ مِنْہَا .وَعَارَضُوْا الْآثَارَ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا فِیْ مُوَافَقَۃِ الْقَوْلِ الْأَوَّلِ ،
٤٣٧٦: مغیرہ بن یونس جو کہ ابن جبیر ہیں کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سوال کیا ایک آدمی نے اگر حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی کہنے لگے کیا تو ابن عمر (رض) کو پہچانتا ہے ؟ میں نے کہ جی ہاں ! کہنے لگے عبداللہ نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دے دی تھی تو عمر (رض) جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور اس کے متعلق دریافت کیا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ رجوع کرے پھر اس کو عدت کے ایام (طہر) میں طلاق دے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان آثار کو دلیل بنایا اور کہا کہ جو شخص اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دے تو وہ گناہ گار ہے اسے مناسب ہے کہ رجوع کرے اس کی یہ طلاق خطاء ہے اگر اس نے اس کو اسی طرح رہنے دیا تو عدت گزرنے سے وہ عورت گناہ والی طلاق سے بائنہ ہوجائے گی لیکن اس کو رجوع کا حکم کیا جائے تاکہ اس رجوع کے ذریعہ وہ گناہ والی طلاق کے اسباب سے نکل جائے پھر اس کو طہر تک چھوڑ دے پھر طہر میں سنت طلاق دے وہ سنت طلاق کی عدت گزارے اگر چاہے رجوع کرلے تو وہ اس کی بیوی ہے عدت باطل ہوجائے گی اور اگر (رکھنا نہیں چاہتا) تو اس کو چھوڑے رکھے۔ یہاں تک کہ طلاق سنت سے وہ بائنہ ہوجائے۔ اس قول کو امام ابوحنیفہ (رح) نے اختیار کیا ہے۔ علماء کی دوسری جماعت نے اس سے اختلاف کیا ان میں امام ابویوسف (رح) بھی ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ جب حیض میں طلاق دے دی تو اس کو طلاق دینے کا اس وقت تک حق نہیں جب تک کہ وہ اس حیض سے پاک نہ ہوجائے پھر دوسرا حیض آئے پھر طہر کی حالت آئے۔ انھوں نے اپنے اس مؤقف کی حمایت میں مندرجہ ذیل روایات پیش کی ہیں۔
حاصل روایات اور فریق اوّل : امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ علماء ایک جماعت نے ان آثار کو دلیل بنایا اور کہا کہ جو شخص اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دے تو وہ گناہ گار ہے اسے مناسب ہے کہ رجوع کرے اس کی یہ طلاق خطاء ہے اگر اس نے اس کو اسی طرح رہنے دیا تو عدت گزرنے سے وہ عورت گناہ والی طلاق سے بائنہ ہوجائے گی لیکن اس کو رجوع کا حکم کیا جائے تاکہ اس رجوع کے ذریعہ وہ گناہ والی طلاق کے اسباب سے نکل جائے پھر اس کو طہر تک چھوڑ دے پھر طہر میں سنت طلاق دے وہ سنت طلاق کی عدت گزارے اگر چاہے رجوع کرلے تو وہ اس کی بیوی ہے عدت باطل ہوجائے گی اور اگر (رکھنا نہیں چاہتا) تو اس کو چھوڑ رکھے۔ یہاں تک کہ طلاق سنت سے وہ بائنہ ہوجائے۔ اس قول کو امام ابوحنیفہ (رح) نے اختیار کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور مستدل : علماء کی دوسری جماعت نے اس سے اختلاف کیا ان میں امام ابویوسف (رح) بھی ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ جب حیض میں طلاق دے دی تو اس کو طلاق دینے کا اس وقت تک حق نہیں جب تک کہ وہ اس حیض سے پاک نہ ہوجائے پھر دوسرا حیض آئے پھر طہر کی حالت آئے۔ انھوں نے اپنے اس مؤقف کی حمایت میں مندرجہ ذیل روایات پیش کی ہیں۔