۴۴۳۲: بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : ثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ الْأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ فِی الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ ، وَمَعَنَا الشَّعْبِیُّ ، فَذَکَرُوْا الْمُطَلَّقَۃَ ثَلَاثًا .فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : حَدَّثَتْنِی فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہَا لَا سُکْنَی لَکَ وَلَا نَفَقَۃٌ .قَالَ : فَرَمَاہُ الْأَسْوَدُ بِحَصَاۃٍ ، قَالَ : وَیْلُکَ، أَتُحَدِّثُ بِمِثْلِ ہٰذَا، قَدْ رُفِعَ ذٰلِکَ اِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : لَسْنَا بِتَارِکِیْ کِتَابِ رَبِّنَا وَسُنَّۃِ نَبِیِّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِ امْرَأَۃٍ ، لَا نَدْرِی لَعَلَّہَا کَذَبَتْ ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ الْآیَۃَ .
٤٤٣٢: ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے ساتھ مسجد اعظم میں موجود تھا ہمارے ساتھ شعبی بھی تھے انھوں نے مطلقہ ثلاثہ کا تذکرہ کیا شعبی کہنے لگے مجھے فاطمہ بنت قیس (رض) نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے فرمایا تمہیں نہ رہائش ملے گی نہ نفقہ یہ بات سن کر اسود نے شعبی کو ایک کنکری ماری اور کہا کیا تم ایسی روایت بیان کرتے ہو۔ حالانکہ یہ معاملہ عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں پیش ہوا تو انھوں نے فرمایا ہم ایک عورت کے کہنے پر اپنے رب کی کتاب اور اپنے پیغمبر کی سنت ترک نہیں کرسکتے ہم نہیں جانتے کہ شاید اس نے غلط کہا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے لا تخرجوہن من بیوتہن ولا یخرجن (الطلاق۔ ١)