۴۴۴۰: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَۃُ مَا لِفَاطِمَۃَ مِنْ خَبَرٍ فِیْ أَنْ تَذْکُرَ ہٰذَا الْحَدِیْثَ یَعْنِیْ قَوْلَہَا لَا نَفَقَۃَ وَلَا سُکْنَی .فَہٰذِہِ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، لَمْ تَرَ الْعَمَلَ بِحَدِیْثِ فَاطِمَۃَ أَیْضًا ، وَقَدْ صَرَفَ ذٰلِکَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ اِلَی خِلَافِ الْمَعْنَی الَّذِیْ صَرَفَہٗ اِلَیْہِ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی .
٤٤٤٠: قاسم نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ (رض) فرمانے لگیں فاطمہ کی اس بات کے نقل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں یعنی اس کا یہ قول کہ نہ نفقہ ہے اور نہ سکنیٰ ۔
تشریح : یہ حضرت عائشہ (رض) بھی فاطمہ کی روایت پر عمل کو پسند نہیں کرتیں۔ بلکہ سعید بن المسیب نے اس کا دوسرا معنی بیان کیا ہے جس سے فریق اوّل کا اعتراض ہی سر سے اٹھ جاتا ہے۔