۴۴۴۱: حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ ، قَالَ : ثَنَا مُعَاوِیَۃُ الضَّرِیْرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ : أَیْنَ تَعْتَدُّ الْمُطَلَّقَۃُ ثَلَاثًا ؟ فَقَالَ : فِیْ بَیْتِہَا ، فَقُلْتُ لَہٗ : أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ أَنْ تَعْتَدَّ فِیْ بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ؟ فَقَالَ : تِلْکَ الْمَرْأَۃُ فَتَنَتْ النَّاسَ وَاسْتَطَالَتْ عَلٰی أَحْمَائِہَا بِلِسَانِہَا فَأَمَرَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِیْ بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ، وَکَانَ رَجُلًا مَکْفُوْفَ الْبَصَرِ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَکَانَ مَا رَوَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِہٖ لَہَا لَا سُکْنَی لَکَ وَلَا نَفَقَۃَ لَا دَلِیْلَ فِیْہِ عِنْدَ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ أَنْ لَا نَفَقَۃَ لِلْمُطَلَّقَۃِ ثَلَاثًا وَلَا سُکْنَیْ اِذَا کَانَ قَدْ صَرَفَ ذٰلِکَ اِلَی الْمَعْنَی الَّذِیْ ذٰکَرْنَاہُ عَنْہُ .
٤٤٤١: عمرو بن میمون نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں نے سعید بن المسیب کو کہا جس عورت کو تین طلاق مل جائیں وہ کہاں عدت گزارے ؟ انھوں نے جواب دیا اپنے گھر میں۔ میں نے کہا کیا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ بنت قیس کو ابن ام مکتوم (رض) کے گھر میں عدت کا حکم نہیں فرمایا۔ تو سعید کہنے لگے۔ اس عورت نے لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیا اور اپنے دیور پر اپنی زبان کو خوب لمبا کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ابن ام مکتوم (رض) کے مکان پر عدت گزارنے کا حکم فرمایا یہ نابینا تھے۔
امام طحاوی (رح) کا قول : سعید بن مسیب (رح) کے قول کے مطابق فاطمہ (رض) کی روایت : لا سکنی ولا نفقۃ “ تین طلاق والی عورت کے لیے نفقہ و سکنی نہ دیئے جانے کی کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ گھر سے نکالنے اور خرچہ بند کرنے کی وجہ ان کی زبان کا کنٹرول میں نہ ہونا تھا۔