۴۵۰۰: مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ یَوْمَ الْجَمَلِ وَسَارَتْ عَائِشَۃُ اِلَی مَکَّۃَ ، بَعَثَتْ عَائِشَۃُ اِلَی أُمِّ کُلْثُوْمٍ وَہِیَ بِالْمَدِیْنَۃِ ، فَنَقَلَتْہَا اِلَیْہَا ، لِمَا کَانَتْ تَتَخَوَّفُ عَلَیْہَا مِنَ الْفِتْنَۃِ ، وَہِیَ فِیْ عِدَّتِہَا .فَہٰکَذَا نَقُوْلُ : اِذَا کَانَتْ فِتْنَۃٌ ، یُخَافُ عَلَی الْمُعْتَدَّۃِ مِنَ الْاِقَامَۃِ فِیْہَا مِنْ تِلْکَ الْفِتْنَۃِ ، فَہِیَ فِیْ سَعَۃٍ مِنَ الْخُرُوْجِ فِیْہَا اِلَیْ حَیْثُ أَحَبَّتْ مِنَ الْأَمَاکِنِ الَّتِیْ تَأْمَنُ فِیْہَا مِنْ تِلْکَ الْفِتْنَۃِ ، وَبِاَللّٰہِ التَّوْفِیْقُ۔
٤٥٠٠: عبدالرحمن بن قاسم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جب طلحہ بن عبیداللہ جمل کے دن شہید ہوگئے اور عائشہ صدیقہ (رض) مکہ آگئیں تو عائشہ صدیقہ (رض) نے امّ کلثوم کو جو مدینہ منورہ میں تھی مکہ مکرمہ منتقل کرلیا کیونکہ ان کو ان کے متعلق فتنہ کا خطرہ ہوا اس وقت امّ کلثوم ایام عدت میں تھی۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جب فتنہ کا خوف ہو اور معتدہ کا وہاں اقامت کرنا جان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہو تو اسے وہاں سے نکل کر وہیں چلے جانا چاہیے جہاں وہ فتنہ سے محفوظ ہو۔ وب اللہ التوفیق
تشریح ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جب فتنہ کا خوف ہو اور معتدہ کا وہاں اقامت کرنا جان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہو تو اسے وہاں سے نکل کر وہین چلے جانا چاہیے جہاں وہ فتنہ سے محفوط ہو۔ وب اللہ التوفیق