hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4527

.

الطحاوي

4527
Al Tahawi
۴۵۲۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : رَأَیْ رَجُلٌ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی النَّوْمِ ، کَأَنَّہَا فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فِیْ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ ، أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِیْنَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ أَرَیْ رُؤْیَاکُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ ، بِالْہَمْزِ أَیْ : اتَّفَقَتْ فَالْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فِی الْوِتْرِ فَقَدْ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْمَا رَوٰی عَنْہُ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنْ تُتَحَرَّی فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، کَمَا أَمَرَ فِیْمَا قَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ، قَبْلَ ہٰذَا، مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَیْضًا أَنْ یَتَحَرَّوْا فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَلَمْ یَکُنْ مَا رُوِیَ عَنْہُ مِنْ أَمْرِہِ اِیَّاہُمْ بِالْتِمَاسِہَا فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، مَا یَنْفِیْ أَنْ یَکُوْنَ تُلْتَمَسُ أَیْضًا فِیْمَا قَبْلَہٗ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَلَمْ یَدُلَّنَا مَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہَا فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، دُوْنَ سَائِرِ الشَّہْرِ ، اِلَّا أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ تَکُوْنَ السَّبْعُ الْأَوَاخِرُ ، أُمِرَ بِالْتِمَاسِہَا فِیْہَا ، بَعْدَمَا أُمِرَ بِالْتِمَاسِہَا فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، عَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ذٰر ، فَتَکُوْنُ فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ تُتَحَرَّی ، دُوْنَ مَا سِوَاہَا مِنِ الشَّہْرِ ، وَذٰلِکَ تَحَر لَا حَقِیْقَۃَ مَعَہٗ۔ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْلَمَ ، ہَلْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ ؟
٤٥٢٧: سالم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے لیلۃ القدر خواب میں دیکھی گویا کہ وہ آخری عشرہ کی ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ میرا خیال ہے کہ تمام خواب موافقت کرنے والے ہیں اور متفق ہونے والے ہیں پس اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کہ ابن عمر (رض) کی اس روایت میں حکم فرمایا کہ اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ جیسا کہ اس کو پہلی روایات میں آخری سات راتوں میں تلاش کرنے کا حکم ہے سات راتوں میں تلاش کا حکم دس راتوں میں تلاش کے مخالف اور منافی نہیں ہے۔ ابن عمر (رض) کی روایت سے بس اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ سات دنوں میں ہے تمام مہینہ میں نہیں۔ صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ سات دنوں میں تلاش کا حکم دس دنوں میں تلاش کے بعد کا ہے جیسا کہ حضرت ابو ذر (رض) کی روایت میں وارد ہے تو اب سات دنوں میں تلاش کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ مہینے کے دوسرے دنوں میں نہیں اور یہ تلاش بھی کوئی قطعی اور یقینی بات نہیں۔ اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ آیا اس مفہوم پر دلالت کرنے والی کوئی بات حضرت ابن عمر (رض) کے واسطہ سے براہ راست جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے یا نہیں۔ تو ابن عمر (رض) کی روایت مل گئی۔
تخریج : بخاری فی التہجد باب ٢١‘ لیلۃ القدر باب ٢‘ مسلم فی الصیام ٢٠٥‘ مالک فی الاعتکاف ١٤‘ مسند احمد ٢‘ ٦؍٨۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کہ ابن عمر (رض) کی اس روایت میں حکم فرمایا کہ اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ جیسا کہ اس کو پہلی روایات میں آخری سات راتوں میں تلاش کا حکم ہے سات راتوں میں تلاش کا حکم دس راتوں میں تلاش کے مخالف اور منافی نہیں ہے۔ ابن عمر (رض) کی روایت سے بس اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ سات دنوں میں ہے تمام مہینہ میں نہیں۔ صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ سات دنوں میں تلاش کا حکم دس دنوں میں تلاش کے بعد کا ہے جیسا کہ حضرت ابو ذر (رض) کی روایت میں وارد ہے تو اب سات دنوں میں تلاش کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ مہینے کے دوسرے دنوں میں نہیں اور یہ تلاش بھی کوئی قطعی اور یقینی بات نہیں۔
اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ آیا اس مفہوم پر دلالت کرنے والی کوئی بات آیا حضرت ابن عمر (رض) کے واسطہ سے براہ راست جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے یا نہیں۔ تو ابن عمر (رض) کی روایت مل گئی۔