hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4528

.

الطحاوي

4528
Al Tahawi
۴۵۲۸: فَاِذَا بَکْرُ بْنُ اِدْرِیْسَ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا آدَمُ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : ثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ حُرَیْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ أَنَّہٗ قَالَ الْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَاِنْ عَجَزَ أَحَدُکُمْ وَضَعُفَ ، فَلَا یُغْلَبَنَّ عَلَی السَّبْعِ الْبَوَاقِی .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا مِنْ ہٰذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہَا قَدْ تَکُوْنُ فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ أَحْرَی مِنْ أَنْ تَکُوْنَ فِیْمَا قَبْلَہٗ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَأَمَّا مَا ذَکَرْنَا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَاِنَّ فِیْہِ الْأَمْرَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَہٗ أَنْ یَلْتَمِسَہَا لَیْلَۃَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ ، وَاحْتَمَلَ أَنْ تَکُوْنَ تُلْتَمَسُ فِیْ کُلِّ شَہْرِ رَمَضَانَ فِیْ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ بِعَیْنِہَا فَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ ، فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ تَکُوْنَ قَبْلَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، فَیَخْرُجُ ذٰلِکَ مِمَّا أَمَرَ فِیْہِ بِالْتِمَاسِہَا فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، لِأَنَّ الشَّہْرَ ، قَدْ یَجُوْزُ أَنْ لَا یَنْقُصَ عَنْ ثَلَاثِیْنَ ، فَتَکُوْنُ تِلْکَ اللَّیْلَۃُ أُوْلَی ثَمَانٍ بَقِیْنَ .فَدَلَّ عَلَی مَعْنَی مَا أَشْکَلَ مِنْ ذٰلِکَ مَا قَدْ رَوَیْنَاہُ فِیْمَا قَدْ تَقَدَّمَ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّمَا أَمَرَہٗ بِذٰلِکَ فِیْ شَہْرٍ کَانَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ ، فَکَانَتْ تِلْکَ اللَّیْلَۃُ أُوْلَیْ سَبْعٍ ، لَا أُوْلَی ثَمَانٍ فَقَدْ دَخَلَ ذٰلِکَ أَیْضًا فِیْمَا أَمَرَ فِیْہِ بِالْتِمَاسِ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، وَذٰلِکَ کُلُّہُ عَلَی التَّحَرِّی ، لَا عَلَی الْیَقِیْنِ .
٤٥٢٨: عقبہ بن حریث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے سنا کہ وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے تھے کہ اس کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔ اگر تم عاجز آ جاؤ یا ایسا نہ کرسکو تو بقیہ سات راتوں میں وہ سستی غالب نہ آنی چاہیے۔ حضرت ابن عمر (رض) کی روایت سے دلالت مل گئی کہ یہ رات آخری سات راتوں میں زیادہ قرین قیاس ہے اس سے کہ آخری دس راتوں میں ہو۔ باقی رہی عبداللہ بن انیس (رض) والی روایت اس میں تیئیسویں رات میں اس کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ وہ ہر رمضان میں اس متعین رات میں تلاش کریں۔ جب یہ بات اسی طرح ہے تو اس سے یہ بات خود ثابت ہوگئی کہ ممکن ہے کہ وہ سات راتوں سے پہلے بھی ہو۔ تو اس سے یہ آخری ہفتہ میں تلاش کرنے والے حکم سے نکل جائے گا کیونکہ مہینہ بعض اوقات تیس دنوں سے کم نہیں ہوتا تو اس طرح یہ رات آخری آٹھ راتوں میں سے پہلی رات ٹھہرے گی۔ اب اس اشکال کا حل جو یہاں پیدا ہوتا ہے خود عبداللہ بن انیس (رض) کی روایت میں موجود ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس بات کا حکم انتیس دنوں والے مہینہ میں دیا تھا۔ تو اس سے ظاہر ہوا کہ یہ رات آخری سات راتوں میں سے پہلی رات ہوگی۔ آٹھ راتوں میں سے نہیں ہوگی تو اس طرح یہ بھی اس حکم میں شامل ہوگی اور شامل رہے گی جو سات آخری ایام میں تلاش کرنے سے متعلق ہے۔ مگر ان سب باتوں کی بیاد آ جا کر تحری پر ہوگی یقین پر نہ ہوگی۔
تخریج : مسلم فی الصیام ٢٠٩‘ مسند احمد ٢؍٩١۔