۴۵۳۳: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِسْحَاقَ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا ثَابِتٌ وَحُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَآہَا فِیْ لَیْلَۃٍ بِعَیْنِہَا ، وَقَدْ أَمَرَہُمْ - بَعْدَ رُؤْیَتِہِ اِیَّاہَا- أَنْ یَتَحَرَّوْہَا فِیْمَا بَعْدُ ، فِی التَّاسِعَۃِ ، وَالسَّابِعَۃِ ، وَالْخَامِسَۃِ فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّہَا قَدْ تَکُوْنُ فِیْ عَامٍ ، فِیْ لَیْلَۃٍ بِعَیْنِہَا ، ثُمَّ تَکُوْنُ فِیْمَا بَعْدُ ، فِیْ لَیْلَۃٍ غَیْرِ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی الْمَعْنَی الَّذِیْ ذَہَبْنَا اِلَیْہِ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ أُنَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔
٤٥٣٣: انس نے عبادہ بن صامت (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رات کو معینہ طور پر دیکھا اور اس کو دیکھنے کے بعد ان کو حکم دیا کہ وہ اب اس کی تحری کریں اور وہ نویں ‘ ساتویں اور پانچویں رات میں ہو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کسی سال میں معینہ رات ہوگی اور پھر اگلے سال وہ کسی اور رات میں ہوگی پس اس روایت کا مفہوم بھی وہی ہوگیا جو ہم نے عبداللہ بن انیس (رض) کی روایت کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے اور یہ مفہوم تو حدیث ابوہریرہ (رض) میں بھی موجود ہے۔