hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4536

.

الطحاوي

4536
Al Tahawi
۴۵۳۶: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ ، قَالَ : ثَنَا الْمَسْعُوْدِیُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْتَمِسُوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ، فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نُسِّیَ اللَّیْلَۃَ الَّتِیْ کَانَتْ أُرِیَہَا ، أَنَّہَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ، وَذٰلِکَ قَبْلَ کَوْنِ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ ، فَأَمَرَ بِالْتِمَاسِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ فِیْمَا بَعْدُ ، مِنْ ذٰلِکَ الشَّہْرِ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَہٰذَا خِلَافُ مَا فِیْ حَدِیْثِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، اِلَّا أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ کَانَ فِیْ عَامَیْنِ فَرَأَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَحَدِہِمَا مَا ذَکَرَہٗ عَنْہُ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَبْلَ کَوْنِ اللَّیْلَۃِ الَّتِیْ ہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ، وَذٰلِکَ لَا یَنْفِیْ أَنْ تَکُوْنَ فِیْمَا بَعْدَ ذٰلِکَ الْعَامِ ، مِنَ الْأَعْوَامِ الْجَائِیَۃِ فِیْمَا قَبْلَ ذٰلِکَ مِنِ الشَّہْرِ وَیَکُوْنُ مَا ذَکَرَہُ عُبَادَۃُ عَلٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وُقِفَ فِیْ ذٰلِکَ الْعَامِ عَلَی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ بِعَیْنِہَا ، ثُمَّ خَرَجَ لِیُخْبِرَہُمْ بِہَا فَرُفِعَتْ ، ثُمَّ أَمَرَہُمْ بِالْتِمَاسِہَا فِیْمَا بَعْدَ ذٰلِکَ مِنَ الْأَعْوَامِ ، فِی السَّابِعَۃِ ، وَالْخَامِسَۃِ ، وَالتَّاسِعَۃِ ، وَذٰلِکَ أَیْضًا کُلُّہٗ عَلَی التَّحَرِّیْ لَا عَلَی الْیَقِیْنِ .
٤٥٣٦: عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو رات دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی کہ یہ لیلۃ القدر ہے اور یہ اس رات کے آنے سے پہلے کی بات ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعد میں اس مہینہ کے آخری عشرہ میں تلاش کا حکم فرمایا۔ یہ بات عبادہ بن صامت (رض) والی روایت کے خلاف ہے البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ دو الگ سالوں کا ہو۔ ایک سال آپ نے وہ کچھ دیکھا جس کا تذکرہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں کیا گیا۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیلۃ القدر کو اس کی آمد سے پہلے دیکھا اور اس میں اس بات کی نفی نہیں کہ آئندہ سالوں میں آپ نے اسے مہینے کے آنے سے پہلے دیکھا ہو اور حضرت عبادہ بن صامت (رض) نے جو کچھ ذکر کیا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لیلۃ القدر کے بارے میں ایک متعین رات کے متعلق اطلاع ہوچکی تھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام کو بتلانے کے لیے باہر تشریف لائے تو اسے بھلا دیا گیا اور اس کا علم اٹھا لیا گیا پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آنے والے سالوں میں پچیس ستائیس ‘ انتیس کی راتوں میں تلاش کرنے کا حکم فرمایا اور یہ تمام کا تمام تلاش اور غور و فکر پر مبنی ہے۔ قطعی اور یقینی بات نہیں۔ روایت ابو سعید (رض) ملاحظہ ہو۔
تخریج : بخاری فی الاعتکاف باب ١‘ ٩‘ لیلۃ القدر باب ٢‘ ٣‘ ابو داؤد فی رمضان باب ٢‘ ٣‘ نسائی فی السہو باب ٩٨‘ ابن ماجہ فی الصیام باب ٥٦‘ دارمی فی الصوم باب ٥٦۔
حاصل روایات : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو رات دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی کہ یہ لیلۃ القدر ہے اور یہ اس رات کے آنے سے پہلے کی بات ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعد میں اس مہینہ کے آخری عشرہ میں تلاش کا حکم فرمایا۔
تبصرہ طحاوی (رح) : یہ بات عبادہ بن صامت (رض) والی روایت کے خلاف ہے البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ دو الگ سالوں کا ہو۔ ایک سال آپ نے وہ کچھ دیکھا جس کا تذکرہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں کیا گیا۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیلۃ القدر کو اس کی آمد سے پہلے دیکھا اور اس میں اس بات کی نفی نہیں کہ آئندہ سالوں میں آپ نے اسے مہینے کے آنے سے پہلے دیکھا ہو اور حضرت عبادہ بن صامت (رض) نے جو کچھ ذکر کیا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لیلۃ القدر کے بارے میں ایک متعین رات کے متعلق اطلاع ہوچکی تھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام کو بتلانے کے لیے باہر تشریف لائے تو اسے بھلا دیا گیا اور اس کا علم اٹھا لیا گیا پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آنے والے سالوں میں پچیس ستائیس ‘ انتیس کی راتوں میں تلاش کرنے کا حکم فرمایا اور یہ تمام کا تمام تلاش اور غور و فکر پر مبنی ہے۔ قطعی اور یقینی بات نہیں۔