۴۵۴۲: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوْبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَرَیْ رُؤْیَاکُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ ، أَنَّہَا لَیْلَۃُ السَّابِعَۃِ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَمَنْ کَانَ مُتَحَرِّیہَا فَلْیَتَحَرَّہَا لَیْلَۃَ السَّابِعَۃِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ ہَذَا أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ فِیْ عَامٍ بِعَیْنِہٖ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ فِیْ کُلِّ الْأَعْوَامِ کَذٰلِکَ ، اِلَّا أَنَّ ذٰلِکَ کُلَّہٗ عَلَی التَّحَرِّی ، لَا عَلَی الْیَقِیْنِ وَکَذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَاہُ قَبْلَ ہٰذَا، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ ، مِمَّا أَمَرَہٗ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذٰلِکَ ، یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ عَلَی التَّحَرِّی مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَہَا فِیْ ذٰلِکَ الْعَامِ ، لِمَا قَدْ کَانَ أُرِیَہُ مِنْ وَقْتِہَا الَّذِیْ تَکُوْنُ فِیْہِ فَأُنْسِیہَا .فَلَمْ یَکُنْ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، مَا یَدُلُّنَا عَلَی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، أَیُّ لَیْلَۃٍ ہِیَ بِعَیْنِہَا ؟ غَیْرَ أَنَّ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ذٰر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہُ ہِیَ عَشْرُ الْأُوَلِ ، أَوْ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ اِذْ سَأَلَہُ عَنْ وَقْتِہَا عَلٰی مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ حَدِیْثِہِ الَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ عَنْہُ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ فَنَفَی بِذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ فِی الْعَشْرِ الْأَوْسَطِ ، وَثَبَتَ أَنَّہَا فِیْ اِحْدَی الْعَشْرَیْنِ ، اِمَّا فِی الْأُوَلِ ، وَاِمَّا فِی الْآخَرِ .وَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَیْضًا ، رُجُوْعُ أَبِیْ ذٰر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِالسُّؤَالِ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَیِّ الْعَشْرَیْنِ ہِیَ ؟ وَجَوَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہُ بِأَنْ یَتَحَرَّاہَا فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ .فَنَظَرْنَا فِیْمَا رُوِیَ فِیْ غَیْرِہِمَا مِنَ الْآثَارِ ، ہَلْ فِیْہِ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہَا فِیْ لَیْلَۃٍ مِنْ ہٰذَیْنِ الْعَشْرَیْنِ بِعَیْنِہَا ؟ فَاِذَا
٤٥٤٢: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرا خیال ہے کہ تمہارے خواب موافقت کرنے والے ہیں۔ وہ آخری عشرہ کی ساتویں رات ہے جو اس کو تلاش کرے تو وہ ستائیسویں رات میں اس کو تلاش کرے۔ اس روایت میں بھی یہ احتمال ہے کہ یہ اسی سال کے ساتھ خاص ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ تمام سالوں میں یہی رات ہو مگر یہ تمام باتیں تحری و غور سے متعلق ہیں۔ یقین سے نہیں کہی جا سکتیں۔ اسی طرح اس سے پہلے عبداللہ بن انیس (رض) والی روایت جس میں ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا اور یہ بھی احتمال ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیلۃ القدر کے لیے اس سال کے لیے یہ تحری کی ہو۔ اس لیے کہ وہ آپ کو اپنے وقت کے ساتھ دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی۔ ان تمام آثار میں کوئی ایسی دلالت نہیں کہ جس سے ہم لیلۃ القدر کی تعیین کرسکیں ؟ سوائے اس روایت کے جس کو ابو ذر (رض) نے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا وہ پہلے عشرہ میں یا رمضان کے پچھلے عشرہ میں ہے۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت فرمائی جب ابو ذر (رض) نے آپ سے اس کا وقت دریافت کیا اس روایت سے درمیانہ عشرہ کی نفی ہوگئی اور یہ ثابت ہوگیا کہ وہ بیس میں سے ایک رات ہے خواہ عشرہ اوّل میں ہو خواہ عشرہ اخیر میں ہو۔ اس روایت میں بھی بات روایت ابو ذر (رض) کی طرف لوٹ جاتی ہے کہ جس میں یہ سوال کیا گیا کہ وہ کون سے بیس دنوں میں ہے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جواب دیا کہ وہ آخری عشرہ میں اس کی تحری کریں اب ہم نے غور کیا کہ ان کے علاوہ آثار میں کوئی ایسا اثر موجود ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ ان بیس میں سے کوئی معینہ رات ہے ؟
تخریج : بخاری فی لیلۃ القدر باب ٢‘ ٣‘ والتہجد باب ٢١‘ مسلم فی الصیام ٢٠٥؍٢٠٦‘ ابو داؤد فی رمضان باب ٥‘ ترمذی فی الصوم باب ٧١‘ مالک فی الاعتکاف ١٠؍١١‘ ١٤‘ مسند احمد ٢؍٢‘ ٢٧‘ ٦٢‘ ١٥٧‘ ١٥٨۔
تبصرہ طحاوی (رح) : اس روایت میں بھی یہ احتمال ہے کہ یہ اسی سال کے سال کے ساتھ خاص ہو اور یہ بھی بھی احتمال ہے کہ تمام سالوں میں یہی رات ہو مگر یہ تمام باتیں تحری و غور سے متعلق ہیں۔ یقین سے نہیں کہی جا سکتیں۔ اسی طرح اس سے پہلے عبداللہ بن انیس (رض) والی روایت جس میں ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا اور یہ بھی احتمال ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیلۃ القدر کے لیے اس سال کے لیے یہ تحری کی ہو۔ اس لیے کہ وہ آپ کو اپنے وقت کے ساتھ دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی۔
نوٹ : ان تمام آثار میں کوئی ایسی دلالت نہیں کہ جس سے ہم لیلۃ القدر کی تعیین کرسکیں ؟ سوائے اس روایت کے جس کو ابو ذر (رض) نے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا وہ پہلے عشرہ میں یا رمضان کے پچھلے عشرہ میں ہے۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت فرمائی جب ابو ذر (رض) نے آپ سے اس کا وقت دریافت کیا اس روایت سے درمیانہ عشرہ کی نفی ہوگئی اور یہ ثابت ہوگیا کہ وہ بیس میں سے ایک رات ہے خواہ عشرہ اوّل میں ہو خواہ عشرہ اخیر میں ہو۔
اس روایت میں بھی بات روایت ابو ذر (رض) کی طرف لوٹ جاتی ہے کہ جس میں یہ سوال کیا گیا کہ وہ کون سے بیس دنوں میں ہے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جواب دیا کہ وہ آخری عشرہ میں اس کی تحری کریں اب ہم نے غور کیا کہ ان کے علاوہ آثار میں کوئی ایسا اثر موجود ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ ان بیس میں سے کوئی معینہ رات ہے ؟