۴۵۴۳: ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَدْ حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ ، عَنْ أَبِی الْخَیْرِ الصُّنَابِحِیِّ ، عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ، لَیْلَۃُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، أَنَّہَا فِیْ ہٰذِہِ اللَّیْلَۃِ بِعَیْنِہَا ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافُ ذٰلِکَ
٤٥٤٣: یزید بن ابی حبیب نے ابوالخیر صنابحی سے انھوں نے بلال (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے فرمایا لیلۃ القدر چوبیسویں رات ہے۔
روایات : اس روایت میں ہے کہ لیلۃ القدر اس معین رات میں ہے حالانکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے خلاف روایات وارد ہیں۔
روایت ابی بن کعب (رض) :
٤٥٤٤: حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّہٖ ، قَالَ : ثَنَا بَقِیَّۃُ ، عَنْ أَبِیْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدَۃُ بْنُ أَبِیْ لُبَابَۃَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ، لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ وَعَلَامَتُہَا أَنَّ الشَّمْسَ تَصْعَدُ ، لَیْسَ لَہَا شُعَاعٌ کَأَنَّہَا طَسْتٌ ۔
٤٥٤٤: زربن حبیش نے ابی بن کعب (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ ٹھوس ہوتا ہے جیسے تھال ہے یعنی اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔
لغات : اصمہ۔ ٹھوس ہونا۔
تخریج : ابو داؤد فی رمضان باب ٢‘ مسند احمد ٥؍١٣٠‘ ١٣١‘ ٣٢١۔