hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4560

.

الطحاوي

4560
Al Tahawi
۴۵۶۰: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ ، قَالَ : ثَنَا حَکِیْمُ بْنُ سَیْفٍ ، قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ ، فَقَالَ أَرَأَیْتُمْ اِنْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلًا ؟ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَہُ وَزَادَ فِیْہِ وَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : فَابْتُلِیَ بِہٖ ، وَکَانَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَائَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَاعَنَ امْرَأَتَہٗ، فَلَمَّا أَخَذَتِ امْرَأَتُہُ تَلْتَعِنُ ، قَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَہْ فَالْتَعَنَتْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَلَّہَا أَنْ تَجِیْئَ بِہٖ أَسْوَدَ جَعْدًا فَجَائَ تْ بِہٖ أَسْوَدَ جَعْدًا حَدَّثَنَا یَزِیْدُ ، قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِیْقٍ ، قَالَ : ثَنَا جَرِیْرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَہٰذَا ہُوَ أَصْلُ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی اللِّعَانِ ، وَہُوَ لِعَانٌ بِقَذْفٍ کَانَ مِنْ ذٰلِکَ الرَّجُلِ لِامْرَأَتِہٖ وَہِیَ حَامِلٌ ، لَا بِحَمْلِہَا .وَقَدْ رَوَاہٗ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا غَیْرُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔
٤٥٦٠: علقمہ نے ابن مسعود (رض) سے روایت کی ہے ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ؟ پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ یہی اس میں پہلے مبتلا ہوا یہ ایک انصاری آدمی تھا وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور اس نے اپنی بیوی سے لعان کیا۔ جب بیوی لعان کرنے لگی تو اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ رک جا اور لعان سے باز رہ مگر اس نے لعان کی جب وہ واپس مڑی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شاید اس کے ہاں۔ گھنگھریالے بالوں والا سیاہ بچہ پیدا ہو۔ چنانچہ سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوا۔ جریر نے اعمش سے روایت کی پھر اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) والی روایت کی اصل یہ ہے اور یہ لعان قذف ہے جو اس آدمی نے اس عورت کے متعلق حاملہ ہونے کی حالت میں الزام تراشی کی۔ یہ حمل کی وجہ سے لعان نہیں ہے۔
اس روایت کو ابن مسعود (رض) کے علاوہ صحابہ کرام نے بھی روایت کیا ہے۔ روایات ابن عباس (رض) ملاحظہ ہوں۔