hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4561

.

الطحاوي

4561
Al Tahawi
۴۵۶۱: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ : ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَیْنَ الْعَجْلَانِیِّ وَامْرَأَتِہٖ وَکَانَتْ حُبْلَی .فَقَالَ زَوْجُہَا : وَاللّٰہِ مَا قَرُبْتُہَا مُنْذُ عَفَرْنَا ، وَالْعَفْرُ : أَنْ یُسْقَی النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ تُتْرَکَ مِنَ السَّقْیِ بَعْدَ الْاِبَارِ بِشَہْرَیْنِ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللّٰہُمَّ بَیِّنْ فَزَعَمُوْا أَنَّ زَوْجَ الْمَرْأَۃِ کَانَ حَمْشَ الذِّرَاعَیْنِ وَالسَّاقَیْنِ ، أَصْہَبَ الشَّعَرَۃِ ، وَکَانَ الَّذِیْ رُمِیَتْ بِہٖ ابْنُ السَّحْمَائِ قَالَ : فَجَائَ تْ بِغُلَامٍ أَسْوَدَ جَعْدٍ ، قَطَطٍ ، عَبْلِ الذِّرَاعَیْنِ ، خَدْلِ السَّاقَیْنِ قَالَ الْقَاسِمُ : فَقَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ ، یَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَہِیَ الْمَرْأَۃُ الَّتِی قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ کُنْتُ رَاجِمًا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ لَرَجَمْتُہَا ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا : وَلٰـکِنْ تِلْکَ امْرَأَۃٌ کَانَتْ قَدْ أَعْلَنَتْ فِی الْاِسْلَامِ ۔
٤٥٦١: قاسم بن محمدنے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا وہ حاملہ تھیں اس کے خاوند نے کہا اللہ کی قسم جب سے ہم نے عفر کیا (کھجور کے درختوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد کھجور کو سیراب کیا جائے) تو میں اس کے قریب نہیں گیا۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے اللہ خوب واضح فرما۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اس عورت کا خاوند پتلے بازو اور پنڈلیوں والا ہے اس کے بالوں کا رنگ سرخ سیاہی مائل ہے اور جس شخص کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام تھا وہ ابن السحماء تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوا جس کے ہاتھ اور پنڈلیاں موٹی تھیں۔
ابن شداد بن الہاد نے کہا اے ابن عباس (رض) ! کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اگر میں بلا گواہوں کے کسی کو سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا۔ ابن عباس (رض) کہنے لگے نہیں ! البتہ یہ پہلی عورت ہے جس کو اسلام میں سب سے پہلے لعان کیا گیا۔