۴۵۶۵: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ ہِلَالَ بْنَ أُمَیَّۃَ قَذَفَ شَرِیْکَ ابْنَ سَحْمَائَ بِامْرَأَتِہٖ، فَرُفِعَ ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْتِ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ ، وَاِلَّا فَحَدٌّ فِیْ ظَہْرِک .فَقَالَ : وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ اِنِّیْ لَصَادِقٌ قَالَ : فَجَعَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لَہٗ أَرْبَعَۃٌ وَاِلَّا فَحَدٌّ فِیْ ظَہْرِک قَالَ : وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ اِنِّیْ لَصَادِقٌ ، یَقُوْلُ ذٰلِکَ مِرَارًا وَلَیُنْزِلَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکَ مَا یُبَرِّئُ بِہٖ ظَہْرِی مِنَ الْجَلْدِ فَنَزَلَتْ آیَۃُ اللِّعَانِ وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ أَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شُہَدَائُ اِلَّا أَنْفُسُہُمْ قَالَ : فَدُعِیَ ہِلَالٌ فَشَہِدَ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاَللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنِ الصَّادِقِیْنَ ، وَالْخَامِسَۃُ أَنَّ لَعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ قَالَ : ثُمَّ دُعِیَتِ الْمَرْأَۃُ فَشَہِدَتْ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاَللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الْکَاذِبِیْنَ ، فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ الْخَامِسَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِفُوْہَا فَاِنَّہَا مُوْجِبَۃٌ قَالَ فَتَکَأْکَأَتْ حَتَّی مَا شَکَکْنَا أَنْ سَتُقِرُّ ، ثُمَّ قَالَتْ لَا أَفْضَحُ قَوْمِیْ سَائِرَ الْیَوْمِ فَمَضَتْ عَلَی الْیَمِیْنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُنْظُرُوْا ، فَاِنْ جَائَ تْ بِہٖ أَبْیَضَ سَبِطًا قَضِیئَ الْعَیْنَیْنِ ، فَہُوَ لِہِلَالِ بْنِ أُمَیَّۃَ ، وَاِنْ جَائَ تْ بِہٖ أَکْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَیْنِ ، فَہُوَ لِشَرِیْکِ ابْنِ سَحْمَائَ .قَالَ : فَجَائَ تْ بِہٖ أَکْحَلَ ، جَعْدًا ، حَمْشَ السَّاقَیْنِ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْلَا مَا سَبَقَ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی ، کَانَ لِیْ وَلَہَا شَأْنٌ قَالَ : الْقَضِیئُ الْعَیْنَیْنِ : طَوِیْلُ شَعْرِ الْعَیْنَیْنِ ، لَیْسَ بِمَفْتُوْحِ الْعَیْنَیْنِ
٤٥٦٥: ابن سیرین نے انس بن مالک (رض) سے نقل کیا کہ ہلال بن امیہ نے شریک بن سحماء پر الزام لگایا کہ وہ اس کی بیوی سے ناجائز تعلق رکھتا ہے یہ معاملہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے ھلال کو فرمایا۔ چار گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پشت پر حد لگے گی اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی قسم ! بیشک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ میں سچا ہوں۔ یہ بات ہلال نے کئی مرتبہ دھرائی اور ضروربضرور اللہ تعالیٰ آپ پر ایسی وحی اتار دیں گے جس سے اللہ تعالیٰ میری پشت کو آپ کے کوڑوں سے بچا لیں گے۔ پس آیت لعان نازل ہوئی۔ ” والذین یرمون ازواجہم ولم یکن لہم شہداء الا انفسہم “ (النور۔ ٦) راوی کہتے ہیں کہ ہلال (رض) کو بلایا گیا انھوں نے چار مرتبہ قسم اٹھا کر گواہی دی کہ وہ اس کے متعلق الزام لگانے میں سچا ہے اور پانچویں مرتبہ اس طرح کہا اگر میں جھوٹا الزام لگاؤں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر عورت کو بلایا گیا اس نے چار مرتبہ قسم اٹھا کر شہادت دی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے جب وہ پانچویں مرتبہ قسم اٹھانے لگی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے روک دو ۔ بیشک یہ قسم لازم کرنے والی ہے راوی کہتے ہیں وہ پیچھے کو ہٹی یہاں تک کہ ہمیں اس میں شک نہ رہا کہ وہ اقرار کرے گی پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کے لیے اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی چنانچہ اس نے قسم اٹھالی۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ دیکھنا اگر اس نے سفید رنگ سیدھے بالوں اور سرخ آنکھوں والا بچہ جنا تو وہ ہلال بن امیہ کا ہے اور اگر سرمگیں آنکھوں گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے۔ راوی کہتے ہیں اس عورت نے سرمگیں آنکھیں اور گھنگھریالے بالوں پتلی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تقدیر الٰہی کی بات سبقت کرنے والی نہ ہوتی تو میں اس کے ساتھ اور معاملہ کرتا (مراد چار گواہوں کی شرط ہے) یعنی حد لگاتا۔ راوی کہتے ہیں۔ قضی العینین کا معنی۔ جس کی آنکھوں کے بال لمبے ہوں اور اس کی آنکھیں کھلی نہ ہوں۔
لغات : تکأکأت۔ پیچھے کو ہٹنا۔ السبط۔ سیدھے بال۔ قضی العینین۔ سرخی یا زیادہ آنسوؤں سے بگڑی آنکھیں۔ اکحل۔ آنکھ کی پلک کی سیاہی۔ حمش الساق۔ پتلی پنڈلی۔