۴۶۰۶: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَبُوْجَعْفَرٍ ، أَظُنُّہُ عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ وَالشَّعْبِیِّ مِثْلَہٗ۔قَالَ : وَقَالَ اِبْرَاھِیْمُ لَا یَعْتِقُ اِلَّا الْوَالِدُ وَالْوَلَدُ فَلَمَّا رَوَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ذَکَرْنَا ، وَوَافَقَ ذٰلِکَ مَا رَوَیْنَا عَمَّنْ ذَکَرْنَا مِنْ أَصْحَابِہٖ وَتَابِعِیْہِمْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَلَمْ نَعْلَمْ فِیْ ذٰلِکَ خِلَافًا عَنْ مِثْلِہِمْ ، وَجَبَ الْقَوْلُ بِمَا رُوِیَ عَنْہُمْ مِنْ ذٰلِکَ ، وَتَرْکُ خِلَافِہِمْ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٤٦٠٦: حجاج نے عطاء اور شعبی (رح) سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور ابراہیم کا قول یہ ہے کہ صرف والد اور ولد (باپ ‘ بیٹا) آزاد ہوں گے۔ پس جب ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مذکورہ بالا روایات نقل کردیں اور صحابہ اور تابعین کے اقوال بھی ذکر کردیئے۔ ہماری معلومات میں تو ان جیسے لوگوں میں سے کسی کا اختلاف بھی نہیں آیا۔ تو لازم ہے کہ ان سے مروی بات کو اختیار کیا جائے اور اس کے خلاف کو ترک کردیا جائے۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
جب ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مذکورہ بالا روایات نقل کردیں اور صحابہ اور تابعین کے اقوال بھی ذکر کردیئے۔ ہماری معلومات میں تو ان جیسے لوگوں میں سے کسی کا اختلاف بھی نہیں آیا۔ تو لازم ہے کہ ان سے مروی بات کو اختیار کیا جائے اور اس کے خلاف کو ترک کردیا جائے۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں فریق ثانی کے مؤقف کو روایات سے واضح کرنے کے بعد اقوال صحابہ وتابعین سے توثیق کردی جیسا کہ راجح مسلک کے متعلق پہلے بھی امام طحاوی (رح) کی عادت ہے۔ آخر میں اس کی اتباع کو لازم کرنے کی ترغیب دی۔ اس باب میں اور پچھلے باب میں نظر طحاوی (رح) ذکر نہیں کی۔