۴۶۰۷: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ ، عَنْ أَیُّوْبَ ، عَنْ عِکْرَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یُؤَدِّی الْمُکَاتَبُ بِحِصَّۃِ مَا أَدَّی دِیَۃَ حُرِّ ، وَمَا بَقِیَ ، دِیَۃُ عَبْدٍ
٤٦٠٧: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ مکاتب اگر مقتول ہوجائے تو اس کے مالک کو اس کی دیت اس طرح دی جائے کہ جتنا حصہ آزاد ہوچکا اتنی آزاد کی دیت اور جتنا ابھی غلامی میں باقی ہے اس کی دیت غلام کی دیت کے مطابق۔
تخریج : ترمذی فی البیوع باب ٣٥‘ مسند احمد ١؍٩٤‘ ١٠٤‘ ٢٩٢؍٣٦٩‘ ٣٦٣؍٢٦٠۔
فریق اوّل کا مؤقف : مکاتب جتنا بدل کتابت دے چکا اتنا آزاد ہوگیا اس میں آزاد کا حکم ہوگا اور جس قدر رقم باقی ہو اس میں غلام کا حکم ہے اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔