۴۶۴۰: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الْخَلِیْلُ بْنُ مُرَّۃَ ، أَنَّ یَحْیَی بْنَ أَبِیْ کَثِیْرٍ حَدَّثَہٗ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یُجْزِی فِی الْاِطْعَامِ فِیْ کَفَّارَۃِ الْأَیْمَانِ اِلَّا مُدَّیْنِ مُدَّیْنِ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ ، وَیُجْزِی مِنَ التَّمْرِ صَاعٌ کَامِلٌ ، وَکَذَا مِنِ الشَّعِیْرِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا عَلِمَ حَاجَۃَ الرَّجُلِ ، أَعْطَاہُ مَا أَعْطَاہُ مِنَ التَّمْرِ ، لِیَسْتَعِیْنَ بِہٖ فِیْمَا وَجَبَ عَلَیْہِ، لَا عَلٰی أَنَّہٗ جَمِیْعُ مَا وَجَبَ عَلَیْہِ، کَالرَّجُلِ یَشْکُو اِلَی الرَّجُلِ ضَعْفَ حَالِہٖ ، وَمَا عَلَیْہِ مِنْ الدَّیْنِ ، فَیَقُوْلُ لَہٗ : خُذْ ہٰذِہِ الْعَشَرَۃَ الدَّرَاہِمَ فَاقْضِ بِہَا دَیْنَکَ، لَیْسَ عَلٰی أَنَّہَا تَکُوْنُ قَضَائً عَنْ جَمِیْعِ دَیْنِہٖ، وَلٰـکِنْ عَلٰی أَنْ یَکُوْنَ قَضَائً بِمِقْدَارِہَا مِنْ دَیْنِہٖ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِقْدَارُ مَا یَجِبُ مِنِ الطَّعَامِ فِیْ کَفَّارَۃٍ مِنَ الْکَفَّارَاتِ ، وَہِیَ مَا یَجِبُ فِیْ حَلْقِ الرَّأْسِ فِی الْاِحْرَامِ مِنْ أَذًی ، فَجَعَلَ ذٰلِکَ مُدَّیْنِ مِنْ حِنْطَۃٍ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ
٤٦٤٠: خلیل بن مرہ نے یحییٰ بن کثیر سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے اسی طرح بیان کی ہے۔ دیگر حضرات نے اس میں ان کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کفارہ قسم میں ہر مسکین کو دو مد (گندم) دے اور کھجور اور جو سے مکمل صاع دیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آدمی کی محتاجی کا علم ہوا تو آپ نے جتنی کھجوریں تھیں اس کو دے دیں تاکہ ان سے اپنے ذمہ جو چیز لازم ہوئی اس کو ادا کرے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ذمہ یہی واجب تھا جیسا کوئی آدمی کسی کو اپنی تنگدستی بتلائے اور قرض بیان کرے تو وہ یہی کہتا ہے یہ دس درہم تو لو اور اس سے اپنا قرض ادا کرو۔ یہ اس طور پر نہیں کہ اس کے سارے قرضہ کی ادائیگی کے لیے یہی کافی ہے بلکہ اس کے قرض میں سے ایک مقدار کی ادائیگی ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفارات میں جس قدر طعام لازم ہوتا ہے اس کی مقدار سے متعلق روایات وارد ہیں وہ حالت احرام میں تکلیف کی وجہ سے جو آدمی اپنے بال منڈوائے تو اس میں ہر مسکین کے لیے گندم کے دو مد مقرر کئے گئے ہیں۔ روایات ملاحظہ ہوں۔
فریق ثانی کا مؤقف : کفارہ قسم میں ہر مسکین کو دو مد (گندم) کھلائے اور کھجور اور جو سے مکمل صاع دیا جائے۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : عین ممکن ہے کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آدمی کی محتاجی کا علم ہوا تو آپ نے جتنی کھجوریں تھیں اس کو دے دیں تاکہ ان سے اپنے ذمہ جو چیا لازم ہوئی اس کو ادا کرے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ذمہ یہی واجب تھا جیسا کوئی آدمی کسی کو اپنی تنگدستی بتلائے اور قرض بیان کرے تو وہ یہی کہتا ہے یہ دس درہم تو لو اور اس سے اپنا قرض ادا کرو۔ یہ اس طور پر نہیں کہ اس کے سارے قرضہ کی ادائیگی کے لیے یہی کافی ہے بلکہ اس کے قرض میں سے ایک مقدار کی ادائیگی ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفارات میں جس قدر طعام لازم ہوتا ہے اس کی مقدار سے متعلق روایات وارد ہیں وہ حالت احرام میں تکلیف کی وجہ سے جو آدمی اپنے بال منڈوائے تو اس میں ہر مسکین کے لیے گندم کے دو مد مقرر کئے گئے ہیں۔
روایات ملاحظہ ہوں۔