hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4673

.

الطحاوي

4673
Al Tahawi
۴۶۷۳: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : حَلَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَیَہْجُرُنَا شَہْرًا، فَدَخَلَ عَلَیْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِیْنَ ، فَقُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ حَلَفْتُ أَنْ لَا تُکَلِّمَنَا شَہْرًا ، وَاِنَّمَا أَصْبَحْتُ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِیْنَ ، فَقَالَ اِنَّ الشَّہْرَ لَا یَتِمُّ .فَأَخْبَرَ أَنَّہٗ اِنَّمَا فَعَلَ ذٰلِکَ ، لِنُقْصَانِ الشَّہْرِ، فَہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ کَانَ حَلَفَ عَلَیْہِنَّ مَعَ غُرَّۃِ الْہِلَالِ فَکَذٰلِکَ نَقُوْلُ ، وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ہٰذَا، مَا ہُوَ أَبْیَنُ مِنْ ہٰذَا ۔
٤٦٧٣: عمرہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ تک ہمیں چھوڑے رکھنے کی قسم اٹھائی پھر انتیس روز گزرنے پر آپ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے خدمت میں گزارش کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے تو ایک ماہ تک ہم سے ہمکلام نہ ہونے کی قسم اٹھائی تھی اور آپ نے تو انتیس روز پورے کئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (بعض اوقات) مہینہ پورا نہیں ہوتا۔ (یہ اسی طرح ہے) اس روایت میں بتلا دیا کہ آپ نے مہینے کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا اس سے یہ دلیل مل گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند دیکھتے ہی ان کے ہاں نہ جانے کی قسم اٹھائی تھی اور ہم بھی یہی بات کہتے ہیں اس سلسلہ میں تو واضح تر روایات وارد ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔
حاصل روایات : اس روایت میں بتلا دیا کہ آپ نے مہینے کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا اس سے یہ دلیل مل گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند دیکھتے ہی ان کے ہاں نہ جانے کی قسم اٹھائی تھی اور ہم بھی یہی بات کہتے ہیں اس سلسلہ میں تو واضح تر روایات وارد ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔