۴۶۷۴: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیْہٖ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : وَقَوْلُہُمْ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ الشَّہْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ لَا وَاللّٰہِ مَا کَذٰلِکَ قَالَ ، أَنَا - وَاللّٰہِ - أَعْلَمُ بِمَا قَالَ فِیْ ذٰلِکَ ، اِنَّمَا قَالَ حِیْنَ ہَجَرَنَا لَأَہْجُرَکُنَّ شَہْرًا .فَجَائَ حَتّٰی ذَہَبَ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ لَیْلَۃً .فَقُلْتُ :یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، اِنَّکَ أَقْسَمْتَ شَہْرًا ، وَاِنَّمَا غِبْتُ عَنَّا تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً .فَقَالَ اِنَّ شَہْرَنَا ہٰذَا، کَانَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَہٗ۔فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ یَمِیْنَہٗ کَانَتْ مَعَ رُؤْیَۃِ الْہِلَالِ ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ ہٰذَا شَیْء ٌ .
٤٦٧٤: ہشام نے اپنے والد عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ صحابہ کرام کا یہ کہنا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اللہ کی قسم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح نہیں فرمایا۔ اللہ کی قسم مجھے خبر ہے جو آپ نے اس سلسلے میں فرمایا بلاشبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں چھوڑتے وقت فرمایا میں ایک ماہ تمہیں چھوڑے رکھوں گا اور ہوا یہ کہ انتیس راتیں گزریں تھیں کہ آپ تشریف لے آئے تو میں نے کہا اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے تو ایک ماہ کی قسم اٹھائی تھی اور آپ ہم سے انتیس راتیں غائب رہے اس پر آپ نے فرمایا ہمارا یہ مہینہ انتیس راتوں کا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آپ کی قسم چاند دیکھتے ہی تھی اور حضرت عمر (رض) سے بھی اس سلسلہ میں مروی ہے۔ وہ ملاحظہ ہو۔