۴۷۲۸: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ کَعْبٍ الْحَلَبِیُّ قَالَ : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا النَّذْرُ مَا اُبْتُغِیَ بِہٖ وَجْہُ اللّٰہِ .قَالُوْا : فَلَمَّا کَانَتِ النُّذُوْرُ اِنَّمَا تَجِبُ اِذَا کَانَتْ مِمَّا یُتَقَرَّبُ بِہٖ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی وَلَا تَجِبُ اِذَا کَانَتْ مَعَاصِیَ اللّٰہِ وَکَانَ الْکَافِرُ اِذَا قَالَ لِلّٰہِ عَلَیَّ صِیَامٌ أَوْ قَالَ لِلّٰہِ عَلَیَّ اعْتِکَافٌ فَہُوَ لَوْ فَعَلَ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ بِہٖ مُتَقَرِّبًا اِلَی اللّٰہِ وَہُوَ فِیْ وَقْتِ مَا أَوْجَبَہٗ اِنَّمَا قَصَدَ بِہٖ اِلٰی رَبِّہِ الَّذِیْ یَعْبُدُہُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَذٰلِکَ مَعْصِیَۃٌ .فَدَخَلَ ذٰلِکَ فِیْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا نَذْرَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ . وَقَدْ یَجُوْزُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ فِ بِنَذْرِکَ لَیْسَ مِنْ طَرِیْقِ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ وَاجِبًا عَلَیْہِ وَلٰـکِنْ أَنَّہٗ قَدْ کَانَ سَمَحَ فِیْ حَالِ مَا نَذَرَہُ أَنْ یَفْعَلَہٗ فَہُوَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَفْعَلَہُ الْآنَ عَلٰی أَنَّہٗ طَاعَۃٌ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ .فَکَانَ مَا أَمَرَہٗ بِہٖ خِلَافَ مَا اِذَا کَانَ أَوْجَبَہُ ہُوَ عَلٰی نَفْسِہِ وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی.
٤٧٢٨: عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک نذر اس چیز کی جائز ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی جائے۔ انھوں نے فرمایا جب نذر ان چیزوں کی درست ہے جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے کاموں سے ہو تو نذر لازم نہیں ہوتی اور کافر نے جب یہ کہا : اللہ علی صیام ی اللہ علی اعتکاف “ پھر وہ اس کو کرے بھی تو اس کو اس سے تقرب الی اللہ مقصود نہیں اس نے جس وقت اس کو اپنے ذمہ واجب کیا تو اس وقت اس کا اس سے ان کو خوش کرنا مقصود ہے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتا ہے اور غیر اللہ کی پوجا معصیت ہے۔ پس یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد لا نذر فی معصیۃ میں داخل ہو کر ممنوع ٹھہرے گا۔ ان کو کہا جائے گا کہ آپ نے جس روایت سے استدلال کیا ہے کہ اے عمر (رض) تم اپنی نذر پوری کرو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بطور وجوب نہ تھا لیکن انھوں نے جب یہ نذر مانی تھی تو اس وقت کرنے سے گریز کیا اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں تھے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اب کرنے کا حکم دیا اس طور پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طاعت ہے۔ پس آپ نے جس کو پورا کرنے کا حکم دیا یہ اس کے خلاف تھا جبکہ انھوں نے اس کو اپنے نفس پر واجب کیا تھا۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
تخریج : مسند احمد ٢؍١٨٣۔
فریق ثانی کا طریق استدلال : جب نذر ان چیزوں کی درست ہے جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے کاموں سے ہو تو نذر لازم نہیں ہوتی اور کافر نے جب یہ کہا اللہ علی صیام ی اللہ علی اعتکاف “ پھر وہ اس کو کرے بھی تو اس کو اس سے تقرب الی اللہ مقصود نہیں اس نے جس وقت اس کو اپنے ذمہ واجب کیا تو اس وقت اس کا اس سے ان کو خوش کرنا مقصود ہے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتا ہے اور غر اللہ کی پوجا معصیت ہے۔ پس یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد : لا نذر فی معصیۃ میں داخل ہو کر ممنوع ٹھہرے گا۔
فریق اوّل کا مؤقف کا جواب : آپ نے جس روایت سے استدلال کیا ہے کہ اے عمر (رض) تم اپنی نذر پوری کرو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بطور وجوب نہ تھا لیکن انھوں نے جب یہ نذر مانی تھی تو اس وقت کرنے سے گریز کیا اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں تھے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اب کرنے کا حکم دیا اس طور پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طاعت ہے۔ پس آپ نے جس کو پورا کرنے کا حکم دیا یہ اس کے خلاف تھا جبکہ انھوں نے اس کو اپنے نفس پر واجب کیا تھا۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔