۴۷۴۶: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُوْرُ بْنُ زَاذَانَ عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : ثَنَا حِطَّانُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الرَّقَاشِیُّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُذُوْا عَنِّیْ فَقَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبُ عَامٍ ، وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ .قَالُوْا : فَبِہٰذَا نَقُوْلُ نَرَی أَنْ یُجْلَدَ الْمُحْصَنُ ، ثُمَّ یُرْجَمَ بَعْدَ ذٰلِکَ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ . وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِلْآخَرِیْنَ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ مَا قَدْ رَوَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَمْرِہِ أُنَیْسًا الْأَسْلَمِیَّ بِرَجْمِ الْمَرْأَۃِ الَّتِیْ أَمَرَہٗ أَنْ یَغْدُوَ عَلَیْہَا فَیَرْجُمَہَا اِنْ اعْتَرَفَتْ وَلَمْ یَأْمُرْہُ أَنْ یَجْلِدَہَا .وَقَدْ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ بِاِسْنَادِہِ فِی الْبَابِ الْأَوَّلِ وَفِیْ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ أَیْضًا أَنَّ الَّذِی قَامَ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہٗ : اِنِّیْ سَأَلْت رِجَالًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُوْنِیْ أَنَّ عَلَی امْرَأَۃِ ہَذَا الرَّجْمَ ، وَلَمْ یَذْکُرْ مَعَہُ الْجَلْدَ فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَدَلَّ ہَذَا أَنَّ جَمِیْعَ مَا کَانَ عَلَیْہَا مِنَ الْجَلْدِ فِی الزِّنَا الَّذِیْ کَانَ مِنْہَا ہُوَ الرَّجْمُ دُوْنَ الْجَلْدِ .وَقَدْ شَدَّ ذٰلِکَ أَیْضًا مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا فَعَلَ بِمَاعِزٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٤٧٤٦: حطان بن عبداللہ رقاشی نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ مجھ سے دین کی باتیں اچھی طرح حاصل کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ پیدا فرما دیا کہ کنوارے جوڑے کو سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی اور شادی شدہ جوڑے کو سو کوڑے اور سنگساری کی سزا دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں محصن کو کوڑے مارے جائیں پھر سنگسار کیا جائے جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ دوسرے ان کے خلاف حضرت انیس (رض) والی روایت کو پیش کرتے ہیں جس میں آپ نے اس عورت کو صبح جا کر اعتراف کی صورت میں سنگسار کرنے کا حکم فرمایا ان کو کوڑے مارنے کا حکم نہیں فرمایا۔ یہ روایت مکمل اسناد کے ساتھ باب اوّل میں مذکور ہوچکی اور اس روایت میں مزید یہ بات بھی مذکور ہے کہ جو شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں کھڑا ہوا اس نے کہا میں نے کئی اہل علم سے دریافت کیا ہے تو انھوں نے مجھے بتلایا ہے کہ اس عورت پر سنگساری کی سزا ہے اور اس آدمی نے اس کے ساتھ کوڑوں کا تذکرہ نہیں کیا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار بھی نہیں فرمایا۔ پس اس سے حاصل یہی ہوا کہ اس سے سرزد ہونے والے زنا کی سزا سنگساری تھی نہ کہ کوڑے اور اس کی تائید ماعز اسلمی (رض) والی روایت سے بھی ہوتی ہے۔