hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4754

.

الطحاوي

4754
Al Tahawi
۴۷۵۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِیْ وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَاہُ رَجُلٌ وَہُوَ بِالشَّامِّ فَذَکَرَ لَہٗ أَنَّہٗ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلًا ، فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا وَاقِدٍ اللَّیْثِیَّ اِلَی امْرَأَتِہِ لِیَسْأَلَہَا عَنْ ذٰلِکَ ، فَأَتَاہَا وَعِنْدَہَا نِسْوَۃٌ حَوْلَہَا فَذَکَرَ لَہَا الَّذِیْ قَالَہُ زَوْجُہَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَأَخْبَرَہَا أَنَّہَا لَا تُؤْخَذُ بِقَوْلِہٖ ، وَجَعَلَ یُلَقِّنُہَا أَشْبَاہَ ذٰلِکَ لِتَنْتَزِعَ فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَزِعَ وَثَبَتَتْ عَلَی الِاعْتِرَافِ فَأَمَرَ بِہَا عُمَرُ ، فَرُجِمَتْ .فَہٰذَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِحَضْرَۃِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَجْلِدْہَا قَبْلَ رَجْمِہِ اِیَّاہَا .فَہٰذَا خِلَافٌ لِمَا فَعَلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِشُرَاحَۃَ ، مِنْ جَلْدِہٖ اِیَّاہَا قَبْلَ رَجْمِہَا فَہٰذَا أَوْلَی الْفِعْلَیْنِ عِنْدَنَا لِمَا قَدْ ذَکَرْنَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .
٤٧٥٤: سلیمان بن یسار نے ابو واقد لیثی (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس شام میں ایک شخص آیا اور ان کو بیان کیا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا (ہم بستر) پس عمر (رض) نے ابو واقد لیثی (رض) کو اس کی بیوی کے پاس بھیجا تاکہ اس سے اس کے متعلق دریافت کیا جائے۔ پس وہ اس کے پاس گیا جبکہ اس کے پاس اور عورتیں بیٹھیں تھیں۔ تو ابو واقد نے اس کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا جو اس کے خاوند نے حضرت عمر (رض) کو کہی تھی اور اس کو بتلایا کہ اس کی بات کا اعتبار نہ کیا جائے گا اور اس کو اسی طرح کی باتوں سے تلقین کرنے لگے۔ تاکہ وہ اپنے دعویٰ سے ہٹ جائے۔ مگر اس نے اپنا دعویٰ چھوڑنے سے انکار کردیا اور اعتراف پر قائم رہی پس عمر (رض) نے اس کو رجم کا حکم دیا چنانچہ اس کو رجم کیا گیا۔ پس یہ حضرت عمر (رض) ہیں ‘ جو اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں اس کو سنگساری سے پہلے کوڑے نہیں لگا رہے۔ یہ اس کے خلاف ہے جو کہ حضرت علی (رض) کا فعل شراحہ کے سلسلہ میں مذکور ہوا کہ انھوں نے سنگساری سے پہلے اس کو کوڑے مارے۔ ہمارے نزدیک دونوں میں یہ اولیٰ ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں :
یہ عمر (رض) جو اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں اس کو سنگساری سے پہلے رجم نہیں کر رہے۔ یہ اس کے خلاف ہے جو کہ حضرت علی (رض) کا فعل شراحہ کے سلسلہ میں مذکور ہوا کہ انھوں نے سنگساری سے پہلے اس کو کوڑے مارے۔ ہمارے نزدیک دونوں میں یہ اولیٰ ہے اور اس کی وجوہ باب میں ہم پہلے ذکر کر آئے۔
: اس باب میں فریق ثانی کے مؤقف کی اولویت کو روایات و دلائل نظر سے ثابت کیا زمانہ نبوت میں واقعہ ماعز اور واقعہ غامدیہ دونوں اس بات کے لیے واضح شہادت ہیں کہ عمل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محصن کو سنگسار کرنے کا تھا۔ واللہ اعلم۔