۴۷۷۶: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ : ذُکِرَ لِعَلِیْ شَأْنُ الرَّجُلِ الَّذِی أَتَی ابْنَ مَسْعُوْدٍ وَامْرَأَتِہِ قَدْ وَقَعَ عَلٰیْ جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ فَلَمْ یَرَ عَلَیْہِ حَدًّا .فَقَالَ عَلِیٌّ : لَوْ أَتَانِیْ صَاحِبُ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ، لَرَضَخْتُ رَأْسَہُ بِالْحِجَارَۃِ فَلَمْ یَدْرِ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ مَا حَدَثَ بَعْدَہُ فَلَمْ یَعْلَمُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ بِذٰلِکَ .فَأُخْبِرَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تَعَلَّقَ فِیْ ذٰلِکَ بِأَمْرٍ قَدْ کَانَ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَہُ فَلَمْ یَعْلَمُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِذٰلِکَ .وَقَدْ خَالَفَ عَلْقَمَۃُ فِیْ ذٰلِکَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَیْضًا وَمَالَ اِلَی قَوْلِ مَنْ خَالَفَہُ عَلٰی أَنَّہٗ أَعْلَمُ أَصْحَابِہٖ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٤٧٧٦: محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے سامنے اس آدمی کی حالت بیان کی گئی جو ابن مسعود (رض) کی خدمت میں بیوی سمیت آیا کہ اس نے بیوی کی لونڈی سے زنا کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس پر حد نہیں ہے۔ حضرت علی (رض) سنکر فرمانے لگے اگر ابن ام عبد والا آدمی میرے پاس آتا تو میں پتھر سے اس کا سر پھوڑ دیتا۔ ابن ام عبد (رض) کو معلوم نہیں ہوا کہ اس کے بعد کیا پیش آیا ؟ ابن مسعود (رض) کو اس کا علم نہیں ہوا تو علی (رض) کو بتلایا گیا کہ ابن مسعود (رض) نے اس سلسلہ میں ایسے معاملے سے اس بات کو جوڑا ہے جو پہلے تھی ‘ پھر منسوخ ہوگئی مگر ابن مسعود (رض) کو اس نسخ کا علم نہ ہوا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ علقمہ (رض) جو حضرت ابن مسعود (رض) کے جلیل القدر شاگردوں سے ہیں۔ انھوں نے ابن مسعود (رض) کے قول کی مخالفت کی اور ان کے مخالف کا قول ذکر کیا گیا۔ روایت علقمہ (رح) یہ ہے۔