۴۷۷۷: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ أَنَّہٗ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَتَیْ جَارِیَۃَ امْرَأَتِہٖ۔فَقَالَ : مَا أُبَالِیْ اِیَّاہَا أَتَیْتُ أَوْ جَارِیَۃَ امْرَأَۃِ عَوْسَجَۃَ .فَہٰذَا عَلْقَمَۃُ رَحِمَہُ اللّٰہُ وَہُوَ أَجَلُّ أَصْحَابِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَعْلَمُہُمْ قَدْ تَرَکَ قَوْلَ عَبْدِ اللّٰہِ فِیْ ذٰلِکَ مَعَ جَلَالَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ - عِنْدَہُ - وَصَارَ اِلَی غَیْرِہٖ۔ وَذٰلِکَ عِنْدَنَا - لِثُبُوْتِ نَسْخِ مَا کَانَ ذَہَبَ اِلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ فِیْ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ، فَکَذٰلِکَ نَقُوْلُ : مَنْ زَنَی بِجَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ حُدَّ اِلَّا أَنْ یَدَّعِیَ شُبْہَۃً مِثْلَ أَنْ یَقُوْلَ ظَنَنْتُ أَنَّہَا تَحِلُّ لِی أَوْ تَکُوْنَ الْمَرْأَۃُ أَحَلَّتْہَا لَہٗ، فَیُدْرَأَ عَنْہُ الْحَدُّ وَیُعَزَّرَ وَیَجِبَ عَلَیْہِ الْعُقْرُ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٤٧٧٧: علقمہ (رض) کی روایت ہے کہ ان سے بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے کا حکم پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا مجھے کوئی پروا نہیں کہ بیوی کی لونڈی سے تم نے زنا کیا یا عوسجہ کی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا برابر ہیں۔ یہ علقمہ (رح) ہیں یہ ابن مسعود (رض) کے افاضل شاگردوں سے ہیں انھوں نے ابن مسعود (رض) کا قول چھوڑ دیا حالانکہ عظمت میں وہ عبداللہ (رض) کو بلند مانتے ہیں۔ انھوں نے دوسروں کا قول اختیار کرلیا۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے جو بات اختیار کی تھی علقمہ (رح) کے ہاں اس کا نسخ ثابت تھا۔ پس ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرے اس کو حد لگائی جائے گی البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر وہ شبہ کا دعویٰ کرے مثلاً کہے کہ طننت انہا تحل لی وہ میرے گمان میں میرے لیے حلال تھی یا کہے کہ بیوی نے اسے میرے لیے حلال کردیا تو اس سے حد ساقط ہوجائے گی اور اس کو صرف تعزیر کی جائے گی۔ نیز مہر لازم ہوگا۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔