۴۷۸ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرٌو، وَابْنُ لَہِیْعَۃَ، وَاللَّیْثُ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَکَمِ الْبَلَوِیِّ، أَنَّہٗ سَمِعَ عَلِیَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِیَّ، یُخْبِرُ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ فَقَالَ " أَصَبْتَ" وَلَمْ یَقُلْ " السُّنَّۃَ " .قَالُوْا : فَفِیْ قَوْلِ عُمَرَ ھٰذَا، لِعُقْبَۃَ " أَصَبْت السُّنَّۃَ " یَدُلُّ أَنَّ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّ السُّنَّۃَ لَا تَکُوْنُ إِلَّا عَنْہٗ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ یَمْسَحُ الْمُقِیْمُ عَلٰی خُفَّیْہِ، یَوْمًا وَلَیْلَۃً، وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیْہِنَّ .وَقَالُوْا : أَمَّا مَا رَوَیْتُمُوْہُ عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِہٖ : (أَصَبْتَ السُّنَّۃَ) فَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ عِنْدَہٗ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ السُّنَّۃَ قَدْ تَکُوْنُ مِنْہُ وَقَدْ تَکُوْنُ مِنْ خُلَفَائِہٖ. قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ) .
٤٧٨: عبداللہ بن الحکم البلوی کہتے ہیں کہ میں نے علی بن رباح لخمی سے سنا وہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) کے متعلق بتلا رہے تھے پھر ان سے اسی طرح روایت نقل کی فرق یہ ہے اس میں اصبت فرمایا۔ سنت کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے اس ارشاد میں جو انھوں نے حضرت عقبہ (رض) کو فرمایا ” اصبت السنۃ “ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے ہاں یہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے کیونکہ سنت آپ ہی کی ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کیا اور کہا مقیم کو موزے پر ایک دن رات مسح کا حکم ہے اور مسافر کے لیے تین دن رات کی اجازت ہے۔ رہی وہ روایت جو تم نے حضرت عمر (رض) سے ” اصبت السنۃ “ کی نقل کی ہے یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ان کے ہاں یہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے کیونکہ سنت کا اطلاق تو سنت خلفاء الراشدین پر خود قول رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ((علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین)) میں موجود ہے۔
تخریج : دارقطنی ١؍٢٠٦
حاصل روایات : مسح خفین کی مقیم و مسافر کے لیے کوئی مدت متعین نہیں جب تک چاہے موزے اتارے بغیر مسح کرسکتا ہے۔
جواب : حضرت ابی بن عمارہ (رض) کی منفرد روایت صحابہ کرام (رض) کی متواتر روایات کے خلاف ہے۔
نمبر ٢: روایت عقبہ بن عامر (رض) میں ” اصبت السنۃ “ سے استدلال درست نہیں اس میں جہاں سنت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہونے کا احتمال ہے وہاں سنت خلفاء ہونے کا بھی احتمال ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین ۔
تخریج : ابو داؤد باب ٥ حدیث ٤٦٠٧‘ ترمذی فی العلم باب ١٦‘ ٢٦٧٦‘ ابن ماجہ باب ٦‘ روایت ٤٢‘ دارمی فی المقدمہ باب ١٦‘ مسند احمد ٤؍١٢٦؍٧
سنت کے لفظ کا اطلاق خلفاء راشدین کے علاوہ صحابہ کے طریقہ پر بھی موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔