۴۷۹ : حَدَّثَنَا بِہٖ أَبُوْ أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ قَالَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ لِرَبِیْعَۃَ (فِیْ أُرُوْشِ أَصَابِعِ الْمَرْأَۃِ) یَا ابْنَ أَخِیْ، إِنَّہَا السُّنَّۃُ، یُرِیْدُ قَوْلَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ عُمَرُ رَأٰیُ مَا قَالَ لِعُقْبَۃَ، وَہُوَ مِنَ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ، فَسَمّٰی رَأْیَہٗ ذٰلِکَ سُنَّۃً، مَعَ أَنَّہٗ قَدْ جَائَ تِ الْآثَارُ الْمُتَوَاتِرَۃُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ، بِتَوْقِیْتِ الْمَسْحِ لِلْمُسَافِرِ وَالْمُقِیْمِ، بِخِلَافِ مَا جَائَ بِہٖ حَدِیْثُ أُبَیِّ بْنِ عُمَارَۃَ .فَمِمَّا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ۔
٤٧٩ : اور سعید بن مسیب جلیل القدر تابعی ہیں انھوں نے ربیعہ رائے کو عورت کی انگلیوں کی دیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا : یا ابن اخی۔ انھا السنۃ حالانکہ اس سے ان کی مراد حضرت زید بن ثابت کا فتویٰ کہ انگلی کی دیت دس اونٹ ہے کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ پس حضرت عمر (رض) نے اپنی رائے کو سنت کہا۔ نمبر ٢: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعیین مدت والی متواتر روایت کے خلاف ہونے کی وجہ سے یہ مؤول ہے۔ نمبر ٣: حضرت عقبہ نے جنگل بیابان میں یہ سفر کیا جس میں پانی نہ ملنے پر وہ مسلسل تیمم کرتے رہے تو تیمم میں موزے اتارنے کا کوئی معنی نہیں اسی کو اصبت السنۃ فرمایا : ھو الرای۔
تخریج : ابو داؤد ٤٦٠٧‘ ترمذی ٢٦٧٦‘ ابن ماجہ ٤٢‘ دارمی باب ١٦‘ مسند احمد ٤؍١٢٦