۴۷۹۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ حَدَّثَہٗ أَنَّ حُمَیْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَہٗ أَنَّ رَجُلًا مِنْ کَلْبٍ اسْمُ قَبِیْلَۃٍ مِنَ الْعَرَبِ یُقَالُ لَہُ وَبْرَۃُ أَخْبَرَہٗ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیْقَ کَانَ یَجْلِدُ فِی الشَّرَابِ أَرْبَعِیْنَ وَکَانَ عُمَرُ یَجْلِدُ فِیْہَا أَرْبَعِیْنَ .قَالَ : فَبَعَثَنِیْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ اِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ :یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِنَّ خَالِدًا بَعَثَنِیْ اِلَیْکَ .قَالَ : فِیْمَ ؟ قُلْتُ :اِنَّ النَّاسَ قَدْ تَخَاوَفُوْا الْعُقُوْبَۃَ وَانْہَمَکُوْا فِی الْخَمْرِ فَمَا تَرَی فِیْ ذٰلِکَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَہٗ : مَا تَرَوْنَ ؟ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ : نَرَیْ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً فَقَبِلَ ذٰلِکَ عُمَرُ .فَکَانَ خَالِدُ أَوَّلَ مَنْ جَلَدَ ثَمَانِیْنَ ثُمَّ جَلَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَاسًا بَعْدَہٗ.
٤٧٩٦: حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ ایک کلبی آدمی نے جس کو وبرہ کہا جاتا تھا۔ اس نے بتلایا کہ ابوبکر (رض) شراب نوشی کرنے والے کو چالیس کوڑے مارتے اور عمر (رض) بھی اس پر چالیس کوڑے مارتے۔ راوی کہتے ہیں مجھے خالد بن ولید (رض) نے عمر (رض) کی خدمت میں بھیجا چنانچہ میں ان کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا اے امیرالمؤمنین ! مجھے خالد (رض) نے بھیجا ہے انھوں نے پوچھا کس لیے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا انھوں نے پوچھا ہے کہ لوگ سزا سے ڈرتے ہیں اور شراب نوشی میں منہمک ہوگئے ہیں۔ آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے اپنے ارد گرد والوں سے دریافت کیا تمہاری کیا رائے ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا امیرالمؤمنین ! اسی کوڑے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے اس بات کو قبول فرمایا۔ تو سب سے پہلے خالد بن ولید (رض) نے اسی کوڑے لگائے۔ پھر اس کے بعد حضرت عمر (رض) نے کچھ لوگوں کو کوڑے لگائے۔