hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4797

.

الطحاوي

4797
Al Tahawi
۴۷۹۷: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ : ثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ غَیْر أَنَّہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ عُمَرَ فَوَجَدَتْ عِنْدَہُ عَلِیًّا ، وَطَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرَ أَوْ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ وَہُمْ مُتَّکِئُوْنَ فِی الْمَسْجِدِ فَذَکَرَ مِثْلَ مَا فِیْ حَدِیْثِ یُوْنُسَ .غَیْرَ أَنَّہٗ زَادَ فِیْ کَلَامِ عَلِی أَنَّہٗ قَالَ اِذَا سَکِرَ ہَذَی وَاِذَا ہَذَی افْتَرَی وَعَلَی الْمُفْتَرِی ثَمَانُوْنَ وَتَابَعَہُ أَصْحَابُہُ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیْثَ .أَفَلَا تَرَی أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لَمَّا سُئِلَ عَنْ ذٰلِکَ ، ضَرَبَ أَمْثَالَ الْحُدُوْدِ کَیْفَ ہِیَ ثُمَّ اسْتَخْرَجَ مِنْہَا حَدًّا بِرَأْیِہٖ، فَجَعَلَہُ کَحَدِّ الْمُفْتَرِی .وَلَوْ کَانَ عِنْدَہٗ فِیْ ذٰلِکَ شَیْء ٌ مُوَقَّتٌ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَغْنَاہُ عَنْ ذٰلِکَ وَلَوْ کَانَ عِنْدَ أَصْحَابِہٖ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْء ٌ اِذًا لَأَنْکَرُوْا عَلَیْہِ أَخْذَ ذٰلِکَ مِنْ جِہَۃِ الْاِسْتِنْبَاطِ وَضَرْبِ الْأَمْثَالِ .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا مِنْہُ وَمِنْہُمْ أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْء ٌ فَکَیْفَ یَجُوْزُ أَنْ یُقْبَلَ بَعْدَ ہَذَا عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، مَا یُخَالِفُ ہَذَا ؟
٤٧٩٧: روح بن عبادہ نے اسامہ بن زید لیثی سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ البتہ یہ فرق ہے فاتیت عمر فوجدت عندہ علیا۔ اس روایت میں غور کرو کہ جب حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) سے دریافت کیا تو انھوں نے حدود کی مثال بیان کر کے پھر اس سے اپنی رائے اور اجتہاد سے اس کی سزا نکالی اور اس کی حد مفتری جیسی قرار دی۔ اگر حضرت علی (رض) کے پاس کوئی مقررہ چیز ہوتی جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہوتی تو وہ ان کو اس اجتہاد سے مستغنی کرنے والی تھی اور اسی طرح اگر عشرہ مبشرہ (رض) کے پاس اور چیز ہوتی تو پھر علی (رض) سے اس کے خلاف قبول نہ کرتے (پس ثابت ہوا کہ اس میں کوئی مقرر حد نہ تھی تبھی انھوں نے قبول کرلی) کہ میں عمر (رض) کے پاس آیا تو وہاں میں نے علی (رض) اور طلحہ (رض) زبیر (رض) یا عبدالرحمن بن عوف (رض) کو پایا وہ مسجد میں تکیہ لگائے بیٹھے تھے پھر اسی طرح روایت نقل کی جو یونس کی روایت میں ہے۔ البتہ اس میں علی مرتضیٰ (رض) کے کلام میں یہ اضافہ ہے : اذ اسکرہذی واذا ہذی افترٰی وعلی المفتری ثمانون کہ جب نشہ میں ہوتا ہے تو ہذیان بکتا ہے اور افتراء پردازی کرتا ہے اور مفتری پر اسی کوڑے ہیں۔ ان کے ساتھیوں نے ان کی اتباع کی پھر حدیث کو اسی طرح ذکر کیا۔
تخریج : موطا مالک فی الاشربہ ٢۔