hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4802

.

الطحاوي

4802
Al Tahawi
۴۸۰۲: وَحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوٗدَ وَعُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ قَالُوْا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ ہِلَالٍ عَنْ نَبِیْھِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ جَلَدَ رَجُلًا فِی الْخَمْرِ ثَمَانِیْنَ غَیْرَ أَنَّ صَالِحًا قَالَ فِیْ حَدِیْثِہِ : جَلَدَ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ حَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ .وَہٰذَا - عِنْدَنَا - أَیْضًا فَاسِدٌ لَا یَثْبُتُ عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لِمَا قَدْ رَوَاہٗ عَنْہُ سَعِیْدٌ مِنْ قَوْلِہٖ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَلَمْ یُسِنَّ فِی الْخَمْرِ حَدًّا ، وَأَنَّہُمْ جَعَلُوْھُ بَعْدَہُ ثَمَانِیْنَ ، بِالتَّمْثِیْلِ الَّذِیْ قَدْ ذَکَرْنَاہُ عَنْہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .وَلَا یَجُوْزُ - عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ - أَنْ یَکُوْنَ یَحْتَاجُ فِی اسْتِخْرَاجِ حَدِّ الْخَمْرِ مِنْ ذٰلِکَ ، وَعِنْدَہٗ فِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَقَدْ جَائَ تِ الْآثَارُ مُتَوَاتِرَۃً أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَکُنْ یَقْصِدُ فِیْ حَدِّ الشَّارِبِ اِلَی عَدَدٍ مِنْ الضَّرْبِ مَعْلُوْمٍ حَتّٰی لَقَدْ بَیَّنَ فِیْ بَعْضِ مَا رُوِیَ عَنْہُ نَفْیَ ذٰلِکَ مِثْلُ مَا رَوَیْنَاہٗ عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَلَمْ یُسِنَّ فِیْہِ حَدًّا .فَمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ
٤٨٠٢: محمد بن علی نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک شخص کو شراب کی وجہ سے اسی کوڑے مارے۔ صالح کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انھوں نے بنی حارث بن خزرج کے ایک آدمی کو کوڑے مارے۔ ہمارے نزدیک یہ روایت بھی درست نہیں کیونکہ یہ حضرت علی (رض) سے ثابت نہیں۔ عدم ثبوت کی وجہ یہ ہے کہ حضرت علی (رض) سے سعید نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور آپ نے شراب کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی اور صحابہ کرام نے اس کو مشابہت کی وجہ سے اسی کوڑے قرار دیا جیسا پہلے ذکر کر آئے دوسری بات یہ ہے کہ حضرت علی (رض) کو چنداں ضرورت نہ تھی اگر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کی مقررہ حد ہوتی جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب پینے کی حد کے سلسلے میں کسی معلوم و مقرر تعداد کا ارادہ نہیں فرمایا۔ بلکہ بعض روایات تو اس کی نفی کرتی ہیں جیسا کہ ہم نے حضرت علی (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انتقال فرمایا اور اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔ من جملہ ان روایات میں سے یہ بھی ہے۔