۴۸۰۳: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ حَدَّثَہٗ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْہَرَ قَالَ : کَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْآنَ وَہُوَ فِی الرِّحَالِ ، یَلْتَمِسُ رَحْلَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ یَوْمَ حُنَیْنٍ .فَبَیْنَمَا ہُوَ کَذٰلِکَ ، أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ لِلنَّاسِ اضْرِبُوْھُ .فَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہٗ بِالنِّعَالِ وَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہٗ بِالْعَصَا ، وَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہٗ بِالْمِیْتَحَۃِ ، یُرِیْدُ الْجَرِیْدَۃَ الرَّطْبَۃَ .ثُمَّ أَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُرَابًا مِنَ الْأَرْضِ ، فَرَمَی بِہٖ فِیْ وَجْہِہِ .
٤٨٠٣: حضرت عبدالرحمن بن ازہر (رض) سے روایت کی ہے کہ گویا وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کے دن کجاوے میں تشریف فرما تھے اور خالد بن ولید (رض) کا کجاوہ تلاش کر رہے تھے آپ اسی حال میں تھے کہ آپ کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو مارو۔ پھر تو کچھ لوگ جوتوں سے مار رہے تھے اور کچھ لاٹھیوں سے۔ کچھ کھجور کی تر شاخوں سے۔ پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین سے مٹی اٹھا کر اس کے چہرے پر پھینکی۔
تخریج : بخاری فی الحدود باب ٤‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٣٥‘ ٣٦۔
حاصل روایات : یلتمس۔ تلاش کرنا۔ المتیخہ۔ ترشاخ۔