۴۸۰۴: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ : ثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ أَزْہَرَ الزُّہْرِیُّ ، قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ یَتَخَلَّلُ النَّاسَ أَیْ یَدْخُلُ بَیْنَہُمْ یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ .فَأُتِیَ بِسَکْرَانَ فَأَمَرَ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضَرَبُوْھُ بِمَا کَانَ فِیْ أَیْدِیْہِمْ ، ثُمَّ حَثَا عَلَیْہِ التُّرَابَ أَیْ رَمَی بِیَدِہِ عَلَیْہِ التُّرَابَ ثُمَّ أُتِیَ أَبُوْبَکْرٍ بِسَکْرَانَ فَتَوَخَّی الَّذِیْ کَانَ مِنْ ضَرْبِہِمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَہُ أَرْبَعِیْنَ .أَفَلَا تَرَی أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ، اِنَّمَا کَانَ ضَرَبَ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِیْنَ عَلَی التَّحَرِّی مِنْہٗ، لِضَرْبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِیْ کَانَ لِأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَکُنْ وَقَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی شَیْئٍ بَیَّنَہُ .
٤٨٠٤: ابن شہاب نے عبدالرحمن بن ازہر زہری (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حنین کے دن دیکھا کہ لوگوں کے درمیان داخل ہو کر خالد بن ولید (رض) کے خیمہ کو پوچھ رہے تھے۔ اسی حالت میں آپ کے پاس ایک نشہ والا آدمی لایا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قریب صحابہ کرام (رض) کو فرمایا (کہ اس کو مارو) تو انھوں نے جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا اس سے مارنا شروع کیا۔ پھر آپ نے اس پر مٹی پھینکی۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کے پاس ایک نشہ والا لایا گیا تو آپ نے اس کو بلایا جو ان لوگوں میں سے تھا جس نے آپ کے سامنے شراب نوشوں کو مارا تھا۔ پس اس نے اس کو چالیس کوڑے مارے۔ اس روایت کو ملاحظہ نہیں کرتے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کے مارنے پر غور کیا اور چالیس کوڑے مروائے۔ کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس سلسلہ میں کسی معین مقدار سے آگاہ نہیں فرمایا تھا۔ جیسا یہ روایات بھی دلالت کرتی ہیں۔