۴۸۱۱: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَفَّانَ ، قَالَ : ثَنَا وُہَیْبٌ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُوْقِفْہُمْ فِیْ حَدِّ الْخَمْرِ عَلَی ضَرْبٍ مَعْلُوْمٍ کَمَا وَقَفَہُمْ فِیْ حَدِّ الزِّنَا لِغَیْرِ الْمُحْصَنِ وَفِیْ حَدِّ الْقَذْفِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِی الْخَمْرِ بِنَعْلَیْنِ أَرْبَعِیْنَ أَرْبَعِیْنَ .فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِکُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ صَدَقْت
٤٨١١: عفان نے وہیب سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے۔ تو ہم نے جو کچھ ذکر کیا وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو شراب نوشی کی حد کے سلسلہ میں مقررہ تعداد میں مارنے سے آگاہ نہیں فرمایا جیسا کہ غیر شادی شدہ زانی کی حد اور قذف (الزام تراشی) کی حد کے متعلق مطلع فرمایا تھا۔ اگر کوئی کہے کہ حضرت ابو سعید خدری (رض) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب کے سلسلہ میں چالیس چالیس جوتے مارے اور حضرت عمر (رض) نے ہر جوتے کو ایک کوڑا قرار دیا ‘ تو اسے کہا جائے گا کہ تم نے یہ بات درست کہی۔ جیسا کہ یہ روایت دلالت کر رہی ہے۔