۴۸۱۳: أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَشِیْشٍ حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِی الْخَمْرِ بِالْجَرِیْدِ ، وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُوْبَکْرٍ أَرْبَعِیْنَ .فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ دَعَا النَّاسَ فَقَالَ : مَا تَرَوْنَ فِیْ حَدِّ الْخَمْرِ ؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ : أَرَی أَنْ تَجْعَلَہُ کَأَخْذِ الْحُدُوْدِ ، وَتَجْعَلَ فِیْہِ ثَمَانِیْنَ .فَلَوْ کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ عَلِمَ أَنَّ مَا فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ سَعِیْدٍ الَّذِیْ ذٰکَرْنَاہُ تَوْقِیْفًا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلٰی حَدِّ الْخَمْرِ أَنَّہٗ ثَمَانُوْنَ اِذًا لَمَا احْتَاجَ فِیْ ذٰلِکَ اِلَی شُوْرَی .وَلٰـکِنَّہٗ اِنَّمَا شَاوَرَ لِیَسْتَنْبِطُوْا وَقْتًا مَعْلُوْمًا فِیْ ذٰلِکَ لَا یُجَاوِزُہُ اِلَی مَا ہُوَ أَکْثَرُ مِنْہُ وَلَا یَنْقُصُہُ اِلٰی أَقَلَّ مِنْہُ .
٤٨١٣: قتادہ نے انس (رض) سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب پینے والے کو کھجور کی چھڑی اور جوتے سے مارا اور ابوبکر (رض) نے چالیس کوڑے لگوائے۔ جب عمر (رض) خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں کو بلایا اور سوال کیا کہ تم شرابی کی حد کتنی خیال کرتے ہو ؟ عبدالرحمن بن عوف (رض) نے کہا میری رائے میں اس کو بھی ہم حدود کی طرح کردیں اور اسی کوڑے اس میں مقرر کردیں۔ اگر عمر (رض) کو معلوم ہوتا جو کہ روایت ابو سعید (رض) میں ہم نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو شراب کی حد کے سلسلہ میں واقفیت کرائی ہے کہ وہ اسی کوڑے ہے تو عمر (رض) کو شوریٰ سے مشورہ کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن آپ نے مشورہ کیا تاکہ لوگ اس سے ایک معلوم مقدار جان لیں اس سے زیادہ اور کم کی طرف تجاوز نہ کرسکیں۔