۴۸۳۵: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ : دَخَلَ الْأَشْتَرُ عَلَی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ : أَرَدْت قَتْلَ ابْنِ أُخْتِیْ؟ فَقَالَ : لَقَدْ حَرَصَ عَلَی قَتْلِیْ وَحَرَصْتُ عَلَی قَتْلِہٖ .فَقَالَتْ : أَمَا اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ فَذَکَرْتُ مِثْلَہٗ۔فَہٰذِہِ الْآثَارُ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا تُعَارِضُ الْآثَارَ الْأُوَلَ لِأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ مَنَعَ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ أَنْ یَحِلَّ الدَّمُ اِلَّا بِاِحْدَی الثَّلَاثِ الْخِصَالِ الْمَذْکُوْرَۃِ فِیْہَا غَیْرَ أَنَّہٗ قَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُوْنَ ہٰذِہِ الْآثَارُ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا نَاسِخَۃً لِلْآثَارِ الْأُوَلِ ، فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ہَلْ نَجِدُ شَیْئًا مِنَ الْآثَارِ یَدُلُّ عَلَیْہٖ؟ .
٤٨٣٥: عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ اشتر حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں آیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا تم میرے بھانجے کو قتل کرنا چاہتے ہو اس نے کہا وہ میرے قتل کا خواہاں ہے اور میں اس کے قتل کا۔ تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا۔ میں نے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا اور اسی طرح میں نے نقل کردیا۔ یہ آثار پہلی روایات جن کو فریق اوّل سے دلیل بنایا اس کے خلاف ہیں کیونکہ تین باتوں کے علاوہ کسی مسلمان کی جان لینے کی اجازت نہیں۔ اب ایک ہی صورت ہے کہ ان آثار کو ان کا ناسخ تسلیم کیا جائے۔ آثار کو دیکھنے سے ایسے شواہد میسر آگئے۔ چنانچہ روایات ملاحظہ ہوں۔
تخریج : مسند احمد ٦؍١٨١۔