۴۸۵۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِیْ عَمْرَۃُ أَنَّہَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ الْقَطْعُ فِیْ رُبْعِ دِیْنَارٍ فَصَاعِدًا .فَکَانَ أَصْلُ حَدِیْثِ یَحْیَی ، عَنْ عَمْرَۃَ ، ہُوَ مَا ذَکَرْنَا مِمَّا رَوَاہٗ عَنْہُ أَہْلُ الْحِفْظِ وَالْاِتْقَانِ ، مَالِکٌ ، وَابْنُ عُیَیْنَۃَ ، لَا کَمَا رَوَاہُ أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ .فَقَدْ عَادَ حَدِیْثُ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اِلَی نَفْسِہَا ، اِمَّا لِتَقْوِیْمِہَا مَا قَدْ خُوْلِفَ فِیْ تَوْقِیْتِہٖ، وَلَمْ یَثْبُتْ فِیْہِ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْء ٌ .وَأَمَّا مَا اسْتَدَلَّ بِہٖ ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَلٰی أَنَّ حَدِیْثَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، مِمَّا رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ عَنْہَا مَرْفُوْعٌ بِقَوْلِہَا مَا طَالَ عَلَیَّ ، وَلَا نَسِیت .فَاِنَّ ذٰلِکَ - عِنْدَنَا - لَا دَلَالَۃَ فِیْہِ، عَلٰی مَا ذُکِرَ ، وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ مَعْنَاہَا فِیْ ذٰلِکَ : مَا طَالَ عَلَیَّ وَلَا نَسِیتُ مَا قَطَعَ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا کَانَتْ قِیْمَتُہُ عِنْدَہَا رُبْعَ دِیْنَارٍ ، وَقِیْمَتُہُ عِنْدَ غَیْرِہَا أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، فَیَعُوْدُ مَعْنَیْ حَدِیْثِہَا ہَذَا اِلَی مَعْنَی مَا قَدْ رَوَیْنَا عَنْہَا قَبْلَ ہَذَا مِنْ ذِکْرِہَا مَا کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْطَعُ فِیْہِ، وَمِنْ تَقْوِیْمِہَا اِیَّاہُ بِرُبْعِ دِیْنَارٍ .فَاِنْ قَالُوْا : فَقَدْ رَوَاہُ أَبُوْبَکْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، مِثْلَ مَا رَوَاہُ أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ ، عَنْ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا .وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ ،
٤٨٥٦: یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) کو فرماتے سنا کہ ربع دینار اور اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یحییٰ نے عمرہ سے اصل روایت اسی طرح نقل کی جس قدر ہے وہ وہی ہے جس کو حفاظ حدیث نے بیان کیا وہ حفاظ امام مالک ‘ ابن عیینہ (رح) جیسے ثقہ لوگ ہیں نہ اس طرح جیسا کہ ابان بن یزید نے روایت کی ہے۔ اب روایت یحییٰ بن سعید عن عمرہ عن عائشہ (رض) حضرت عائشہ (رض) پر موقوف ہے اور حضرت عائشہ (رض) کی طرف لوٹ آئی یا تو اس چیز کی قیمت لگانے میں جس کی قیمت میں اختلاف کیا گیا (یعنی ڈھال) یا پھر اس مقدار کے مقرر کرنے جس کے مقرر کرنے میں اختلاف کیا گیا تو اس سلسلہ میں اس روایت میں حضرت عائشہ (رض) سے کوئی بات مرفوع جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہوتی۔ البتہ ابن عیینہ کا یہ کہنا کہ : ماطال علی ولا نسیت کے لفظوں سے مرفوع ہونا معلوم ہوتا ہے۔ تو ہمارے ہاں ! اس میں اس قسم کی کوئی دلالت نہیں پائی جاتی کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چوتھائی دینار قیمت کی چیز چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا اس واقعہ کو پیش آئے طویل عرصہ نہیں ہوا اور نہ ہی مجھے یہ واقعہ بھولا اور اس ڈھال کی قیمت حضرت عائشہ (رض) کے ہاں چوتھائی حصہ دینار ہو اور اس کی قیمت دوسروں کے ہاں اس سے زیادہ ہو۔ اب اس روایت کا مطلب بھی اس روایت کی طرف لوٹ گیا جو ہم نے ان سے روایت کی ہے اور اس میں انھوں نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس چیز کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے اور اس کی قیمت ربع دینار سے لگائی۔ اس کی ایک سند ایسی جو اعتراض سے بری ہے۔ ملاحظہ ہو۔ اس روایت کو ابوبکر بن عمرو بن حزم نے عمرہ عن عائشہ (رض) ذکر کیا اور وہ بالکل ابان بن یزید عن عمرہ عن عائشہ (رض) کی روایت کی طرح ہے۔ روایت یہ ہے۔