۴۸۷۲: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسَی قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ أَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیْہَ أَنَّ عَمْرَو بْنَ سَمُرَۃَ بْنِ حَبِیْبِ بْنِ عَبْدِ نَحْسٍ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ سَرَقْتُ جَمَلًا لَبَنِیْ فُلَانٍ .فَأَرْسَلَ اِلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا : اِنَّا فَقَدْنَا جَمَلًا لَنَا فَأَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ یَدُہُ .قَالَ ثَعْلَبَۃُ : أَنَا أَنْظُرُ اِلَیْہِ حِیْنَ قُطِعَتْ یَدُہُ وَہُوَ یَقُوْلُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی طَہَّرَنِیْ مِمَّا أَرَادَ أَنْ یُدْخِلَ جَسَدِی النَّارَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا أَقَرَّ بِالسَّرِقَۃِ مَرَّۃً وَاحِدَۃً قُطِعَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَمِمَّنْ ذَہَبَ اِلَی ذٰلِکَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ وَمِنْہُمْ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ فَقَالُوْا : لَا تُقْطَعُ حَتَّی یُقِرَّ مَرَّتَیْنِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٤٨٧٢: عبدالرحمن بن ثعلبہ انصاری نے اپنے والد سے بیان کیا کہ عمرو بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے بنی فلاں کا ایک اونٹ چرایا ہے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو انھوں نے کہا ہمارا ایک اونٹ گم ہوا ہے۔ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا تو میں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ فقہاء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ جب کوئی آدمی ایک مرتبہ سرقہ کا اعتراف کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں۔ اس قول کو امام ابوحنیفہ (رح) محمد بن الحسن (رح) نے اختیار کیا ہے۔ دوسروں نے کہا امام ابو یوسف (رح) کا مؤقف یہ ہے کہ دو مرتبہ اقرار کے بغیر اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ ان کی دلیل مندرجہ ذیل روایات سے ہے۔
تشریح ثعلبہ کہتے ہیں کہ جب اس کا ہاتھ کاٹا گیا تو میری نگاہ اسی پر تھی وہ کہہ رہا تھا۔ الحمد للہ الذی طہرنی مما اراد ان یدخل جسدی النار “ تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس گناہ سے پاک کردیا جس نے یہ چاہا کہ میرا جسم اس کی وجہ سے آگ میں داخل ہو۔
تخریج : ابن ماجہ فی الحدود باب ٢٤۔
امام طحاوی (رح) کا قول : فقہاء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ جب کوئی آدمی ایک مرتبہ سرقہ کا اعتراف کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں۔ اس قول کو امام ابوحنیفہ (رح) محمد بن الحسن (رح) نے اختیار کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : امام ابو یوسف (رح) کا مؤقف یہ ہے کہ دو مرتبہ اقرار کے بغیر اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ ان کی دلیل مندرجہ ذیل روایات سے ہے۔