hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4876

.

الطحاوي

4876
Al Tahawi
۴۸۷۶: مَا قَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُرْوَۃَ ابْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہٗ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ اِمْرَأَۃً سَرَقَتْ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَأَمَرَ بِہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُقْطَعَ .فَکَلَّمَہُ فِیْہَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ فَتَلَوَّنَ أَیْ تَغَیَّرَ مِنَ الْغَضَبِ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَشْفَعُ فِیْ حَد مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ .فَقَالَ لَہُ أُسَامَۃُ : اسْتَغْفِرْ لِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَیْ عَلَی اللّٰہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّمَا أَہْلَکَ النَّاسَ مِنْ قَبْلِکُمْ أَنَّہُمْ کَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِیْہِمْ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْھُ وَاِذَا سَرَقَ فِیْہِمْ الضَّعِیْفُ أَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا ثُمَّ أَمَرَ بِتِلْکَ الْمَرْأَۃِ الَّتِیْ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ یَدُہَا .
٤٨٧٦: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں فتح مکہ کے دنوں چوری کی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا حضرت اسامہ بن زید (رض) نے اس کے متعلق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی تو غصہ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک بدل گیا تو آپ نے فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کرتے ہو ؟ حضرت اسامہ نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے معاف فرما دیں۔
جب پچھلا پہر ہوا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف کی جس کا وہ حقدار ہے پھر فرمایا اما بعد ! تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے کہ ان میں جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرلیتا تو اس پر حد قائم کرتے مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر بالفرض فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ پھر آپ نے اس عورت کے متعلق حکم دیا جس نے چوری کی تھی پس اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا۔
تخریج : بخافی فی الحدود باب ١٢‘ مسلم فی الحدود ٨؍٩‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٤‘ ترمذی فی الحدود باب ٦‘ نسائی فی السارق باب ٦‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٦‘ دارمی فی الحدود باب ٥۔