hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4877

.

الطحاوي

4877
Al Tahawi
۴۸۷۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ عَنْ أَبِیْھَاعَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ قُرَیْشًا أَہَمَّہُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُوْمِیَّۃِ الَّتِیْ سَرَقَتْ فَقَالُوْا : مَنْ یَجْتَرِئُ یُکَلِّمُ فِیْہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالُوْا : وَمَنْ یَجْتَرِئُ عَلَیْہِ اِلَّا أُسَامَۃُ ؟ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ مَعْنَاہُ .فَثَبَتَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ الْقَطْعَ کَانَ بِخِلَافِ الْمُسْتَعَارِ الْمَجْحُوْدِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَدْفَعُ الْقَطْعَ فِی الْخِیَانَۃِ
٤٨٧٧: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ قریش نے مخزومی عورت کے معاملے کو بڑی اہمیت دی جس نے چوری کی تھی آپس میں کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس موقعہ پر گفتگو میں کون جرأت کرے گا پھر کہنے لگے اسامہ کے علاوہ اور کوئی جرأت نہیں کرسکتا پھر اس کی ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ ان روایات سے ثابت ہوا کہ مستعار زیورات جن کا وہ انکار کردیتی تھی یہ چوری اس سے زائد تھی مستعار زیورات کو دبانا یہ خیانت ہے اس کے متعلق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہاتھ کاٹنے کی نفی منقول ہے۔ ملاحظہ ہو۔
تخریج : بخاری فی احادیث الانبیاء باب ٥٤‘ فضائل اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باب ١٨‘ والحدود باب ١٢‘ مسلم فی الحدود ٨؍٩‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٤‘ نسائی فی السارق باب ٦‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٦‘ دارمی فی الحدود باب ٥۔
حاصل روایات : ان روایات سے ثابت ہوا کہ مستعار زیورات جن کا وہ انکار کردیتی تھی یہ چوری اس سے زائد تھی مستعار زیورات کو دبانا یہ خیانت ہے اس کے متعلق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہاتھ کاٹنے کی نفی منقول ہے۔ ملاحظہ ہو۔