hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4880

.

الطحاوي

4880
Al Tahawi
۴۸۸۰: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ رَحَّالٍ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ : ثَنَا الْمُغِیْرَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔فَلَمَّا کَانَ الْخَائِنُ لَا قَطْعَ عَلَیْہِ وَفَرَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ السَّارِقِ وَأُحْکِمَتِ السُّنَّۃُ أَمْرَ السَّارِقِ الَّذِیْ یَجِبُ عَلَیْہِ الْقَطْعُ أَنَّہٗ الَّذِیْ یَسْرِقُ مِقْدَارًا مِنَ الْمَالِ مَعْلُوْمًا مِنْ حِرْزٍ وَکَانَ الْمُسْتَعِیْرُ أَخَذَ الْمَالَ الْمُسْتَعَارَ مِنْ غَیْرِ حِرْزٍ ثَبَتَ أَنَّہٗ لَا قَطْعَ عَلَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ لِعَدَمِ الْحِرْزِ .وَہٰذَا الَّذِیْ ذٰکَرْنَا مِمَّا صَحَّحْنَا عَلَیْہِ مَعَانِیَ ہٰذِہِ الْآثَارِ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ
٤٨٨٠: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ جبکہ خائن پر قطع ہی نہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خائن اور چور میں فرق فرمایا ہے اور چور کے معاملے میں یہ پختہ طریقہ ثابت ہے کہ جب وہ مال کی ایک مخصوص مقدار (درس درہم) کسی محفوظ مقام سے لے تو تب اس پر قطع آئے گا اور عاریت کے طور پر لینے والے نے تو محفوظ مقام سے بلااجازت نہیں لیا بلکہ اس کے ہاتھ لے لیا ہے مال کے محفوظ مقام پر نہ ہونے کی وجہ سے اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ ہوگی۔ یہ جو اوپر مذکور ہوا جس سے ہم نے آثار کے معانی کا باہمی درست ہونا ثابت کیا ہے یہ امام ابوحنیفہ (رح) ابو یوسف (رح) محمد (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایات : جبکہ خائن پر قطع ہی نہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خائن اور چور میں فرق فرمایا ہے اور چور کے معاملے میں یہ پختہ طریقہ ثابت ہے کہ جب وہ مال کی ایک مخصوص مقدار (درس درہم) کسی محفوظ مقام سے لے تو تب اس پر قطع آئے گا اور عاریت کے طور پر لینے والے تو محفوظ مقام سے بلااجازت نہیں لیا بلکہ اس کے ہاتھ لے لیا ہے مال کے محفوظ مقام پر نہ ہونے کی وجہ سے اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ ہوگی۔
یہ جو اوپر مذکور ہوا جس سے ہم نے آثار کے معانی کا باہمی درست ہونا ثابت کیا ہے یہ امام ابوحنیفہ (رح) ابو یوسف (رح) محمد (رح) کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں فریق ثانی کے مسلک کو ثابت کیا اور فریق اوّل کی دلیل کا جواب میں دے دیا۔ روایات کا ایسا معنی لیا جس سے روایات کا قضاء اٹھ جائے۔