۴۸۸۳: وَقَدْ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ جَدِّہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ أَیْضًا .فَفَرَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الثِّمَارِ الْمَسْرُوْقَۃِ بَیْنَ مَا أَوَاہُ الْجَرِیْنُ مِنْہَا وَبَیْنَ مَا لَمْ یَأْوِہِ وَکَانَ فِیْ شَجَرِہِ فَجَعَلَ فِیْمَا أَوَاہُ الْجَرِیْنُ مِنْہَا الْقَطْعَ وَفِیْمَا لَمْ یَأْوِہِ الْجَرِیْنُ الْغُرْمَ وَالنَّکَالَ .فَتَصْحِیْحُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ وَمَا رَوَاہُ رَافِعٌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِہٖ لَا قَطْعَ فِیْ ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ أَنْ یُجْعَلَ مَا رَوَیْ رَافِعٌ ہُوَ عَلٰی مَا کَانَ فِی الْحَوَائِطِ الَّتِیْ لَمْ یُحْرَزْ مَا فِیْہَا عَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو مِمَّا زَادَ عَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ رَافِعٍ فَہُوَ خِلَافُ مَا فِیْ حَدِیْثِ رَافِعٍ فَفِیْ ذٰلِکَ الْقَطْعُ وَلَا قَطْعَ فِیْمَا سِوٰی ذٰلِکَ ، یَسْتَوِیْ ہَذَانِ الْأَثَرَانِ وَلَا یَتَضَادَّانِ وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ .
٤٨٨٣: عمرو بن شعیب نے اپنے والد ‘ انھوں نے اپنے دادا سے ‘ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کو روایت کیا ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرائے ہوئے پھلوں اور سٹور میں محفوظ پھلوں اور جو درخت پر ہوں اور محفوظ نہ کئے گئے ہوں ان میں سے سٹور میں محفوظ پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور جو محفوظ نہ ہوں ان میں چٹی اور سزا کا حکم فرمایا۔ تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت رافع (رض) والی روایت ” لاقطع فی ثمر ولا کثر “ اس کو ایسے احاطوں والا قرار دیں جن کو دروازے و چوکیدار سے محفوظ نہ کیا گیا ہو جیسا کہ حدیث عبداللہ بن عمرو میں ہے جو حدیث رافع کے علاوہ میں ہے حدیث رافع کے خلاف ہے اس میں ہاتھ کاٹے جائیں گے اس کے علاوہ میں قطع نہیں ہے اب یہ دونوں آثار برابر ہوگئے متضاد نہ رہے یہ امام ابو یوسف (رح) کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں طحاوی (رح) نے فریق ثانی یعنی امام ابو یوسف (رح) کے مؤقف کو ترجیح دی ہے اور وہی ان کے ہاں راجح معلوم ہوتا ہے حضرت امام صاحب کے ہاں یہ اشیاء گویا مسروقہ اموال کی تعریف میں شامل نہیں۔ جب کہ امام ابو یوسف (رح) اس کو حدود سرقہ میں داخل مان کر اس میں ہاتھ کاٹنے کو لازم کہتے ہیں۔