hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4882

.

الطحاوي

4882
Al Tahawi
۴۸۸۲: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی الْمُزَنِیّ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حِبَّانَ عَنْ عَمِّہِ وَاسِعِ بْنِ حِبَّانَ أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِیًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَجَائَ بِہٖ فَغَرَسُہٗ فِیْ مَکَان آخَرَ .فَأَتَی بِہٖ مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ یَقْطَعَہُ فَشَہِدَ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا قَطْعَ فِیْ ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّہٗ لَا یُقْطَعُ فِیْ شَیْئٍ مِنَ الثَّمَرِ وَلَا مِنَ الْکَثَرِ وَسَوَاء ٌ عِنْدَہُمْ أَخَذَ مِنْ حَائِطِ صَاحِبِہٖ أَوْ مَنْزِلِہِ بَعْدَمَا قَطَعَہُ وَأَحْرَزَہُ فِیْہِ .وَقَالُوْا : لَا قَطْعَ أَیْضًا فِیْ جَرِیْدِ النَّخْلِ وَلَا فِیْ خَشَبِہٖ لِأَنَّ رَافِعًا لَمْ یَسْأَلْ عَنْ قِیْمَۃِ مَا کَانَ فِی الْوَدِیَّۃِ الْمَسْرُوْقَۃِ مِنَ الْجَرِیْدِ وَلَا عَنْ قِیْمَۃِ جِذْعِہَا وَدَرَأَ الْقَطْعَ عَنِ السَّارِقِ فِیْ ذٰلِکَ لِقَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا قَطْعَ فِیْ کَثَرٍ وَہُوَ الْجُمَّارُ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ لَا قَطْعَ فِی الْجُمَّارِ وَلَا فِیْمَا یَکُوْنُ عِنْدَہُ مِنَ الْجَرِیْدِ وَالْخَشَبِ وَالثَّمَرِ .وَمِمَّنْ قَالَ ذٰلِکَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : ہَذَا الَّذِیْ حَکَاہُ رَافِعٌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِ لَا قَطْعَ فِیْ ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ وَہُوَ عَلَی الثَّمَرِ وَالْکَثَرِ الْمَأْخُوْذَیْنِ مِنَ الْحَائِطِ الَّتِیْ لَیْسَتْ بِحِرْزٍ لِمَا فِیْہَا .فَأَمَّا مَا کَانَ مِنْ ذٰلِکَ مِمَّا قَدْ أُحْرِزَ فَحُکْمُہٗ حُکْمُ سَائِرِ الْأَمْوَالِ وَیَجِبُ الْقَطْعُ عَلَی مَنْ سَرَقَ مِنْ ذٰلِکَ الْمِقْدَارِ الَّذِیْ یَجِبُ الْقَطْعُ فِیْہِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا قَدْ رَوَیْنَاہٗ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْکِتَابِ فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْبَابِ لَمَّا سُئِلَ عَنِ التَّمْرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ : لَا قَطْعَ فِیْہِ اِلَّا مَا أَوَاہُ الْجَرِیْنُ وَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِیْہِ الْقَطْعُ وَمَا لَمْ یَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِیْہِ غَرَامَۃُ مِثْلِہِ وَجَلَدَاتُ نَکَالٍ .
٤٨٨٢: یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے انھوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی ہے کہ ایک غلام نے کسی آدمی کے احاطہ سے پنیری کا ایک پودا چوری کیا اور لے جا کر دوسری جگہ بو دیا۔ اس غلام کو مروان کے پاس لایا گیا تو اس نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا اس پر حضرت رافع بن خدیج (رض) نے گواہی دی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھلوں اور پنیری کے پودے میں ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا قول یہ ہے کہ پھلوں کی کسی چیز میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے اور اسی طرح پودوں کی پنیری میں بھی خواہ اس نے احاطہ سے اکھاڑا یا مکان سے لیا جہاں انھوں نے اس کو محفوظ کردیا یا کاٹ کر رکھا ہو۔ اسی طرح کھجور کی شاخوں اور اس کی لکڑی میں بھی ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کیونکہ اس موقعہ پر حضرت رافع (رض) پنیری کے پودے کی قیمت کا سوال نہیں کیا اور نہ اس کے تنے کی قیمت دریافت کی اور اس طرح سے چور ہاتھ کٹنے سے بچ گیا۔ کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لاقطع فی کثر پنیری کے پودے میں قطع ید نہیں ہے۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ پنیری کے پودے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اور نہ ہی کھجور کی شاخوں ‘ لکڑی اور پھل میں۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ دوسروں نے کہا مال محفوظ کی قسم میں سے جو چیز بھی دس درہم کی قیمت کو پہنچ جائے اس پر قطع ید ہے اس کی دلیل مطلقا قطع ید والی روایات ہیں۔ علماء کی دوسری جماعت نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کا مفہوم مخصوص ہے اس سے مراد ایسے پھل اور پنیری کے پودے مراد ہیں جو کسی محفوظ مقام میں نہ ہوں باقی جو محفوظ مقام میں ہوں گے اس کا حکم دیگر اموال کی طرح ہے اور ان اموال میں سے دس درہم کی مقدار چرا لینے پر ہاتھ کاٹنا ہازم ہے۔ انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا جو سرقہ کے سلسلہ میں کتاب میں دوسرے مقام پر منقول ہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پھلوں کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا۔ لٹکے پھل ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے مگر اس صورت میں کہ جن کو سٹور میں محفوظ کردیا گیا ہو اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت تک پہنچ جائے جس کی قیمت ڈھال تک نہ پہنچے اس میں اسی مقدار میں تاوان اور عبرت کے لیے کوڑے ہیں۔ روایت یہ ہے۔
تخریج : سابقہ تخریج ملاحظہ ہو۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : ایک جماعت علماء کا قول یہ ہے کہ پھلوں کی کسی چیز میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے اور اسی طرح پودوں کی پنیری میں بھی خواہ اس نے احاطہ سے اکھاڑا یا مکان سے لیا جہاں انھوں نے اس کو محفوظ کردیا یا کاٹ کر رکھا ہو۔ اسی طرح کھجور کی شاخوں اور اس کی لکڑی میں بھی ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کیونکہ اس موقعہ پر حضرت رافع (رض) نے پنیری کے پودے کی قیمت کا سوال نہیں کیا اور نہ اس کے تنے کی قیمت دریافت کی اور اس طرح سے چور ہاتھ کٹنے سے بچ گیا۔ کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لاقطع فی کثر پنیری کے پودے میں قطع ید نہیں ہے۔
پس اس سے ثابت ہوگیا کہ پنیری کے پودے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اور نہ ہی کھجور کی شاخوں ‘ لکڑی اور پھل میں۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : مال محفوظ کی قسم میں سے جو چیز بھی دس درہم کی قیمت کو پہنچ جائے اس پر قطع ید ہے اس کی دلیل مطلقاً قطع ید والی روایات ہیں۔
روایت رافع کا جواب :
علماء کی دوسری جماعت نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کا مفہوم مخصوص ہے اس سے مراد ایسے پھل اور پنیری کے پودے مراد ہیں جو کسی محفوظ مقام میں نہ ہوں باقی جو محفوظ مقام میں ہوں گے ان کا حکم دیگر اموال کی طرح ہے اور ان اموال میں سے دس درہم کی مقدار چرا لینے پر ہاتھ کاٹنا لازم ہے۔
مؤقف ِثانی کی دلیل :
انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا جو سرقہ کے سلسلہ میں کتاب میں دوسرے مقام پر منقول ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پھلوں کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا۔ لٹکے پھل پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے مگر اس صورت میں کہ جن کو سٹور میں محفوظ کردیا گیا ہو اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت تک پہنچ جائے جس کی قیمت ڈھال تک نہ پہنچے اس میں اسی مقدار میں تاوان اور عبرت کے لیے کوڑے ہیں۔ روایت یہ ہے۔