۴۸۸۵: وَحَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ سَلْمَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ مَکَّۃَ قَتَلَتْ ہُذَیْلٌ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ بِقَتِیْلٍ کَانَ لَہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ .فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَقَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ : مَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیْلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ اِمَّا أَنْ یَقْتُلَ وَاِمَّا أَنْ یُوْدَی وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ .وَقَالَ أَبُوْبَکْرَۃَ فِیْ حَدِیْثِہِ قَتَلَتْ خُزَاعَۃُ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ذِکْرُ مَا یَجِبُ فِی النَّفْسِ خَاصَّۃً وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ ذٰلِکَ .
٤٨٨٥: یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ کو فتح کردیا تو ہذیل قبیلہ کے لوگوں نے بنو لیث کے ایک آدمی کو قتل کردیا اور یہ قتل ایک مقتول کے بدلے میں تھا جو زمانہ جاہلیت میں پیش آیا تھا۔ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اپنے خطبہ میں فرمایا جس کا کوئی آدمی مقتول ہوگیا تو دو باتوں میں ایک کو اختیار کرسکتے ہیں یا تو قاتل کو قتل کریں یا اولیاء مقتول کو دیت دی جائے گی یہ الفاظ محمد بن عبداللہ کے ہیں۔ ابو بکرہ نے اپنی روایت میں اس طرح ذکر کیا : ” قتلت خزاعۃ رجلا من بنی لیث “ خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی مار دیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت میں صرف وہ بات مذکور ہے جو صرف قتل نفس کی صورت میں لازم آتی ہے حضرت ابو شریح خزاعی (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس جیسی روایت کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الجنایات باب ٨‘ واللقطہ باب ٧‘ والعلم باب ٣٩‘ مسلم فی الحج ٤٤٧‘ ابو داؤد فی الدیات باب ٤‘ ترمذی فی الدیات باب ١٣‘ نسائی فی القسامۃ باب ٢٩‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ٣‘ مسند احمد ٢؍٢٣٨۔
لغات : خیرالنظرین۔ دونوں ہم مثلوں میں سے زیادہ بہتر۔ ہذیل۔ مشہور قبیلہ عرب ہے۔ خزاعہ۔ عرب کا معروف قبیلہ ہے۔
امام طحاوی (رح) کا قول : اس روایت میں صرف وہ بات مذکور ہے جو صرف قتل نفس کی صورت میں لازم آتی ہے حضرت ابو شریح خزاعی (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس جیسی روایت کی ہے۔