۴۸۸۶: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِیْ ذِئْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَعِیْدٌ الْمَقْبُرِیُّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا شُرَیْحٍ الْکَعْبِیَّ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ خُطْبَتِہِ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ أَلَا اِنَّکُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَۃَ قَتَلْتُمْ ہٰذَا الْقَتِیْلَ مِنْ ہُذَیْلٍ وَاِنِّیْ عَاقِلُہُ فَمَنْ قُتِلَ لَہُ بَعْدَ مَقَالَتِی قَتِیْلٌ فَأَہْلُہُ بَیْنَ خِیْرَتَیْنِ بَیْنَ أَنْ یَأْخُذُوْا الْعَقْلَ وَبَیْنَ أَنْ یَقْتُلُوْا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ مِنْ غَیْرِ ہٰذَا الْوَجْہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا دُوْنَ النَّفْسِ مِثْلُ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٤٨٨٦: سعید مقبری کہتے ہیں کہ میں نے ابو شریح کعبی (رض) کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے روز اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا۔ اے بنو خراعہ سنو ! تم نے ہذیل کا یہ آدمی قتل کردیا ہے اور میں اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔ پس جو آدمی (آئندہ) قتل ہوگا اس کے ورثاء دو باتوں میں اختیار رکھتے ہیں دیت وصول کریں یا اس (قاتل) کو قتل کریں۔
تخریج : ابو داؤد فی الدیات باب ٤‘ مسند احمد ٦؍٣٨٥۔
لغات : عاقلہ۔ دیت ادا کرنے والا ہوں۔ بین خیرتین۔ وہ دو اختیاروں میں ہے حضرت ابو شریح (رض) سے نفس سے کم جنایت کے سلسلہ میں اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ وہ روایت یہ ہے۔