۴۸۸۸: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : ثَنَا عَبَّادٌ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ قَالَ : أَخْبَرَنِی الْحَارِثُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ أَبِی الْعَرْجَائِ عَنْ أَبِیْ شُرَیْحٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ حُکْمَ الْجِرَاحِ الْعَمْدِ فِیْمَا یَجِبُ فِیْ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنَ الْقِصَاصِ وَالدِّیَۃِ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا قُتِلَ عَمْدًا فَوَلِیُّہُ بِالْخِیَارِ بَیْن أَنْ یَعْفُوَ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ أَوْ یَقْتَصَّ رَضِیَ بِذٰلِکَ الْقَاتِلُ أَوْ لَمْ یَرْضَ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَیْسَ لَہٗ أَنْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ اِلَّا بِرِضَائِ الْقَاتِلِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ أَنَّ قَوْلَہُ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ عَلٰی مَا قَالَ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی وَیَجُوْزُ أَنْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ اِنْ أُعْطِیَہَا کَمَا یُقَالُ لِلرَّجُلِ خُذْ بِدَیْنِک اِنْ شِئْتُ دَرَاہِمَ وَاِنْ شِئْتُ دَنَانِیْرَ وَاِنْ شِئْت عُرُوْضًا وَلَیْسَ یُرَادُ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ یَأْخُذُ ذٰلِکَ رَضِیَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الدَّیْنُ أَوْ کَرِہَ وَلٰـکِنْ یُرَادُ اِبَاحَۃُ ذٰلِکَ لَہُ اِنْ أُعْطِیَہُ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : وَمَا حَاجَتُہُمْ اِلَی ذِکْرِ ہَذَا ؟ قِیْلَ لَہٗ : لِمَا قَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
٤٨٨٨: سفیان بن ابی العوجاء نے ابو شریح (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر زخمی کرنے کا حکم جان بوجھ کر قتل کرنے کے حکم کی طرح ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں قصاص یا دیت لازم ہوتی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ جب کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کردیا گیا تو اس کے ولی کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ معاف کر دے یا دیت وصول کرے یا قصاص لے خواہ قاتل اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا قاتل کی مرضی کے بغیر وہ دیت کو اختیار نہیں کرسکتے۔ انھوں نے ” او یأخذ الدیۃ “ کو پیش کیا۔ اگرچہ اس سے وہ بات بھی مراد ہوسکتی جو آپ نے مراد لی ہے مگر اس میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ دیت کا مطلقاً جواز مراد لیا جائے جبکہ اس کو دی جائے جیسا کہ محاورہ میں کسی شخص کو کہا جائے خذ بدینک ان شئت دراہم وان شئت دنانیر وان شئت عروضا “ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرض خواہ یہ چیز ضرور لے خواہ خواہ وہ اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔ بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کو اپنی مرضی سے پسند کرنے پر ان میں سے کسی چیز کے لینے کا جواز ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ان کو اس بات کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ تو اس کے جواب میں کہیں گے کہ حضرت ابن عباس (رض) سے اسی طرح مروی ہے جیسا کہ یہ روایت ہے۔
لغات اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر زخمی کرنے کا حکم جان بوجھ کر قتل کرنے کے حکم کی طرح ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں قصاص یا دیت لازم ہوتی ہے۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ جب کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کردیا گیا تو اس کے ولی کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ معاف کر دے یا دیت وصول کرے یا قصاص لے خواہ قاتل اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : قاتل کی مرضی کے بغیر وہ دیت کو اختیار نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا ” او یأخذ الدیۃ “ کو پیش کیا۔ ! اگرچہ اس سے وہ بات بھی مراد ہوسکتی ہے جو آپ نے مراد لی ہے مگر اس میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ دیت کا مطلقاً جواز مراد لیا جائے جبکہ اس کو دی جائے جیسا کہ محاورہ میں کسی شخص کو کہا جائے خذ بدینک ان شئت دراہم وان شئت دنانیر وان شئت عروضا “ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرض خواہ یہ چیز ضرور لے خواہ وہ اس پر راضی ہو یا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کو اپنی مرضی سے پسند کرنے پر ان میں سے کسی چیز کے لینے کا جواز ہے۔
سوال : ان کو اس بات کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
جواب : حضرت ابن عباس (رض) سے اسی طرح مروی ہے جیسا کہ یہ روایت ہے۔