۴۸۸۷: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَیْلٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ أَبِی الْعَوْجَائِ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أُصِیْبَ بِدَمٍ أَوْ بِخَبْلٍ یَعْنِیْ بِالْخَبْلِ الْجِرَاحَ فَوَلِیُّہُ بِالْخِیَارِ بَیْنَ اِحْدَی ثَلَاثٍ بَیْنَ أَنْ یَعْفُوَ أَوْ یَقْتَصَّ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ فَاِنْ أَتَی الرَّابِعَۃَ فَخُذُوْا عَلَی یَدَیْہِ فَاِنْ قَبِلَ وَاحِدَۃً مِنْہُنَّ ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہُ النَّارُ خَالِدًا فِیْہَا مُخَلَّدًا .
٤٨٨٧: سفیان بن ابی عوجاء نے ابو شریح خزاعی (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص قتل ہوجائے یا اس کو زخم پہنچے ۔ الخبل سے زخم مراد ہے۔ اس کے اولیاء کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے۔ معاف کر دے۔ بدلہ لے۔ دیت وصول کرے۔ اگر وہ کوئی چوتھی بات اختیار کرے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو یعنی منع کرو۔ اگر وہ ان تین باتوں میں ایک بات قبول کرنے کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے جہنم ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔
تخریج : ابو داؤد فی الدیات باب ٣‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ٣‘ دارمی فی الدیات باب ١‘ بمثلہ۔
لغات : الخبل۔ زخم۔