۴۸۹۱: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ یَہُوْدِیًّا رَضَّ رَأْسَ صَبِیْ بَیْنَ حَجَرَیْنِ فَأَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُرَضَّ رَأْسُہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا الْحَدِیْثِ فَقَلَّدُوْھُ وَقَالُوْا : یُقْتَلُ کُلُّ قَاتِلٍ بِمَا قُتِلَ بِہٖ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : کُلُّ مَنْ وَجَبَ عَلَیْہِ قَوَدٌ لَمْ یُقْتَلْ اِلَّا بِالسَّیْفِ .وَقَالُوْا : ہٰذَا الْحَدِیْثُ الَّذِیْ رَوَیْتُمُوْھُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی أَنَّ ذٰلِکَ الْقَاتِلَ یَجِبُ قَتْلُہُ لِلّٰہِ اِذْ کَانَ اِنَّمَا قَتَلَ عَلَی مَالٍ قَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ فِیْ بَعْضِ الْحَدِیْثِ .
٤٨٩١: قتادہ (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے۔ کہ ایک یہودی نے ایک بچے کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل ڈالا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں ‘ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ قاتل کو اسی چیز سے قتل کیا جائے گا جس چیز سے اس نے قتل کیا۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا جس شخص پر قصاص لازم ہوا ہو اس کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ فریق اوّل کے مؤقف کا جواب یہ ہے کہ مندرجہ بالا روایت جس سے آپ نے استدلال کیا اس میں احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کا قتل واجب ہے اس لیے کہ اسے مال کی خاطر قتل کیا گیا اور یہ حدیث و اضح موجود ہے۔
تخریج : بخاری فی الخصومات باب ١‘ والوصایا باب ٥‘ والدیات باب ٤‘ ١٢‘ مسلم فی القسامہ ١٧‘ ابو داؤد فی الدیات باب ١٠‘ ابن ماجہ فی الدیات۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : بعض علماء کا قول یہ ہے کہ قاتل کو اسی چیز سے قتل کیا جائے گا جس چیز سے اس نے قتل کیا۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : جس شخص پر قصاص لازم ہوا ہو اس کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے گا۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : مندرجہ بالا روایت جس سے آپ نے استدلال کیا اس میں احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا قتل اللہ تعالیٰ کی خاطر لازم سمجھا ہو (جیسا کسی ڈاکو کا قتل) اس لیے کہ اس نے مال کی خاطر اس بچے کو قتل کیا تھا اس کا ثبوت مندرجہ ذیل روایات میں ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔