۴۸۹۲: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأُوَیْسِیُّ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عَدَا یَہُوْدِیٌّ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰیْ جَارِیَۃٍ فَأَخَذَ أَوْضَاحًا کَانَتْ عَلَیْہَا ، وَرَضَخَ رَأْسَہَا .فَأَتَی بِہَا أَہْلُہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہِیَ فِیْ آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ وَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَک ؟ أَفُلَانٌ ؟ لِغَیْرِ الَّذِیْ قَتَلَہَا فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا أَیْ : لَا .فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَیْرَ الَّذِیْ قَتَلَہَا ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا أَیْ : لَا فَقَالَ فَفُلَانٌ لِقَاتِلِہَا ، فَأَشَارَتْ أَیْ : نَعَمْ .فَأَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسَہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ .فَاِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَ دَمَ ذٰلِکَ الْیَہُوْدِیِّ قَدْ وَجَبَ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَمَا یَجِبُ دَمُ قَاطِعِ الطَّرِیْقِ لِلّٰہِ تَعَالٰی .فَکَانَ لَہٗ أَنْ یُقْتَلَ کَیْفَ شَائَ بِسَیْفٍ أَوْ بِغَیْرِ ذٰلِکَ وَالْمُثْلَۃُ حِیْنَئِذٍ مُبَاحَۃٌ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْعُرَنِیِّیْنَ .
٤٨٩٢: ہشام بن زید نے حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے ایک یہودی نے ایک بچی پر زیادتی کی کہ اس کے پازیب اتار لیے جو اس نے زیب تن کر رکھے تھے اور اس کا سر دو پتھروں سے کچل دیا۔ اس بچی کے اعزاء اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے ابھی اس میں زندگی کے آثار باقی تھے اور اس کی زبان بند ہوچکی تھی۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں کس نے قتل کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ قاتل کے علاوہ کا نام لیا تو اس نے سر سے انکار کا اشارہ کیا پھر ایک اور کا نام لیا جو قاتل کے علاوہ تھا اس نے اپنے سر سے انکار کا اشارہ کیا۔ تو آپ نے فرمایا فلاں اور اس کے قاتل کا نام لیا تو اس نے سر سے ہاں کا اشارہ کیا پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ اگر یہودی کا خون اللہ تعالیٰ کی خاطر لیا گیا ہوتا جیسا کہ ڈاکو کا خون کرنا لازم ہوتا ہے تو پھر آپ کے لیے اسے جس طرف مناسب ہوتا تلوار یا کسی اور چیز سے قتل جائز تھا اور اس وقت تو مثلہ بھی جائز تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل عرینہ کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ اس پر مندرجہ روایات دلالت کر رہی ہیں۔
تخریج : بخاری فی الطلاق باب ٢٤‘ نسائی فی القسامۃ باب ١٣‘ مسند احمد ٣؍٢٦٢۔
اگر یہودی کا خون اللہ تعالیٰ کی خاطر لیا گیا ہوتا جیسا کہ ڈاکو کا خون کرنا لازم ہوتا ہے تو پھر آپ کے لیے اسے جس طرح مناسب ہوتا تلوار یا کسی اور چیز سے قتل جائز تھا اور اس وقت تو مثلہ بھی جائز تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل عرینہ کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔
اس پر مندرجہ روایات دلالت کر رہی ہیں۔