hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4922

.

الطحاوي

4922
Al Tahawi
۴۹۲۲: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ : اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ ہُذَیْلٍ فَضَرَبَتْ اِحْدَاہُمَا الْأُخْرٰی بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْہَا وَمَا فِیْ بَطْنِہَا فَاخْتَصَمُوْا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَضَی أَنَّ دِیَۃَ جَنِیْنِہَا عَبْدٌ أَوْ وَلِیْدَۃٌ وَقَضَی بِدِیَۃِ الْمَرْأَۃِ عَلَی عَاقِلَتِہَا وَوَرِثَہَا وَلَدُہَا وَمَنْ مَعَہُمْ .فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِکِ بْنِ النَّابِغَۃِ الْہُذَلِیُّ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، کَیْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَکَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَہَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذٰلِکَ بَطَلَ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا ہٰذَا مِنْ اِخْوَانِ الْکُہَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِہِ الَّذِیْ سَجَعَہٗ .
٤٩٢٢: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو ہلاک کردیا۔ قبیلہ ہذیل کے لوگ یہ جھگڑا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ اس حمل کے بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے اور عورت کی دیت اس عورت قاتلہ کے خاندان پر ڈال دی اور اس (مقتولہ) عورت کے بچے اور دیگر رشتہ داروں کو اس کا وارث قرار دیا۔ اس پر حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی دیت کیسے دوں جس بچے نے نہ پیا نہ کھایا نہ بات کی اور نہ ہی کوئی چیخ ماری۔ اس قسم کا خون تو باطل ہوتا ہے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن مالک کے مسجع کلام کی وجہ سے فرمایا یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے۔ (کیونکہ اس کا یہ کلام شرع کے خلاف تھا)
تخریج : بخاری فی الطب باب ٤٦‘ مسلم فی القسامہ باب ٣٦‘ ابو داؤد فی الدیات باب ١٩‘ نسائی فی القسامہ باب ٤٠‘ دارمی فی الدیات باب ٢١‘ مسند احمد ٢؍٥٣٥‘ ٥؍٣٢٧۔