۴۹۲۴: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَائٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا زَائِدَۃُ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ نَضْلَۃَ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔قَالُوْا : فَہٰذِہِ الْآثَارُ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَقْتُلُ الْمَرْأَۃَ الْقَاتِلَۃَ بِالْحَجَرِ وَلَا بِعَمُوْدِ الْفُسْطَاطِ وَعَمُوْدُ الْفُسْطَاطِ یَقْتُلُ مِثْلُہٗ فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّہٗ لَا قَوَدَ عَلٰی مَنْ قَتَلَ بِخَشَبَۃٍ وَاِنْ کَانَ مِثْلُہَا یَقْتُلُ. فَکَانَ مِنْ حُجَّۃِ مَنْ خَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنْ قَالَ : فَقَدْ رَوٰی حَمَلٌ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافَ ہٰذَا فَذَکَرَ۔
٤٩٢٤: عبید بن نضلہ نے حضرت مغیرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ فریق اوّل والے کہتے ہیں کہ ان روایات سے ثابت ہوا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاتلہ عورت کو پتھر یا خیمے کی چوب سے قتل نہیں کیا حالانکہ خیمے کی چوب ان چیزوں سے ہے جن سے قتل کیا جاسکتا ہے تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ جو آدمی لکڑی سے قتل کیا جائے اس کا قصاص نہیں اگرچہ اس جیسی لکڑی سے قتل کیا جاسکتا ہو۔ پتھر یا لاٹھی وغیرہ سے ہلاکت کی صورت میں قصاص ہوگا یہ امام ابو یوسف (رح) محمد (رح) کا قول ہے۔ دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔ حمل بن مالک (رض) کی روایات اس کے خلاف موجود ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔
لغات : الفسطاط۔ خیمہ۔ غرہ۔ غلام یا لونڈی۔ سجع۔ تک بندی۔