۴۹۳۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ سَمِعَ بُشَیْرَ بْنَ یَسَارٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ : وُجِدَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَہْلٍ قَتِیْلًا فِیْ قَلِیْبٍ مِنْ قُلُبِ خَیْبَرَ .فَجَائَ أَخُوْھُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَہْلٍ وَعَمَّاہُ حُوَیِّصَۃُ وَمُحَیِّصَۃُ ابْنَا مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَہَبَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ لِیَتَکَلَّمَ .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکُبْرَ الْکُبْرَ فَتَکَلَّمَ أَحَدُ عَمَّیْہِ اِمَّا حُوَیِّصَۃُ وَاِمَّا مُحَیِّصَۃُ تَکَلَّمَ الْکَبِیْرُ مِنْہُمَا .قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَہْلٍ قَتِیْلًا فِیْ قَلِیْبٍ مِنْ قُلُبِ خَیْبَرَ وَذَکَرَ عَدَاوَۃَ یَہُوْدٍ لَہُمْ .قَالَ : أَفَتُبَرِّئُک یَہُوْدُ بِخَمْسِیْنَ یَمِیْنًا أَنَّہُمْ لَمْ یَقْتُلُوْھُ؟ قَالَ : قُلْتُ وَکَیْفَ نَرْضَی بِأَیْمَانِہِمْ وَہُمْ مُشْرِکُوْنَ ؟ قَالَ فَیُقْسِمُ مِنْکُمْ خَمْسُوْنَ أَنَّہُمْ قَتَلُوْھُ قَالُوْا: کَیْفَ نَقْسِمُ عَلٰی مَا لَمْ نَرَ ؟ فَوَدَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِہِ .
٤٩٣٩: بشیر بن یسار سہل بن ابی حثمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن سہل (رض) کو خیبر کے ایک کنوئیں میں مقتول پایا اس کا بھائی عبدالرحمن بن سہل اور اس کے دونوں چچا حویصہ اور محیصہ بن مسعود (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبدالرحمن بات کرنے لگے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ فرمایا بڑا۔ بڑا یعنی بڑا بات کرے۔ چنانچہ دونوں چچاؤں حویصہ ‘ حویصہ (رض) میں سے ایک نے بات کی ان میں سے بڑے نے بات کی۔ اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے عبداللہ بن سہل کو خیبر کے ایک کنوئیں میں مقتول پایا ہے۔ انھوں نے اپنے ساتھ یہود کی عداوت کا تذکرہ فرمایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا یہود کی پچاس قسمیں کہ انھوں نے قتل نہیں کیا تم سے ان کو بری کردیں گی ؟ میں نے عرض کیا ہم ان کی قسمیں کس طرح تسلیم کرلیں گے جبکہ وہ مشرک ہیں آپ نے فرمایا پھر تمہارے پچاس آدمی قسم اٹھائیں کہ انھوں نے ہی قتل کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہم اس پر کس طرح قسمیں اٹھائیں کہ انھوں نے ہی قتل کیا ہے۔ اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے عبداللہ کی دیت ادا فرمائی۔
تخریج : بخاری فی الادب باب ٨٩‘ الجزیہ باب ١٢‘ القسامہ باب ١‘ ٣‘ ابو داؤد فی الدیات باب ٨‘ ترمذی فی الدیات باب ٢٢‘ نسائی فی القسامہ باب ٤‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ٢٨‘ مسند احمد ٤؍٢‘ ٣۔
لغات : القسامہ۔ قسم اٹھانا۔